رسائی کے لنکس

logo-print

تعزیرات میں نرمی یا ٹھیکے ایران کا انداز نہیں بدل سکتے: اسرائیل


نیتن یاہو کے بقول، ’اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ تعزیرات میں نرمی اور اربوں ڈالر مالیت کے ٹھیکے ایک دھاڑتے ہوئے شیر کو بلی کا بچہ بنادیں گے، تو ایک بار پھر سوچ لیں‘

اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے جمعرات کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایرانی جوہری سمجھوتے کی شدید مذمت کی ہے۔

نیتن یاہو کے بقول، ’اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ تعزیرات میں نرمی اور اربوں ڈالر مالیت کے ٹھیکے ایک دھاڑتے ہوئے شیر کو بلی کا بچہ بنادیں گے، تو ایک بار پھر سوچ لیں‘۔

اُنھوں نے تسلیم کیا کہ سمجھوتے کے نتیجے میں ایران کے جوہری پرگرام پر متعدد قدغنیں لاگو ہوتی ہیں، جو درست ہے‘۔ تاہم، سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے پر پابندیاں اٹھا ہی لی جاتیں، جس کا اس بات سے تعلق نہیں کہ آئندہ 10 سے 15 برس تک ایران کا انداز کیا رہتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اسرائیل کبھی ایسا نہیں ہونے دے گا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے کلب میں زبردستی داخل ہو، گھس آئے یا بیٹھا رہے۔

نیتن یاہو نے فلسطینی رہنما محمود عباس کے بدھ کے خطاب کو ’امن عمل کو مسترد کرنے کے مترادف‘ قرار دیا۔
اسرائیلی رہنما نے کہا کہ وہ بغیر پیشگی شرائط کے، ’فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات بحال کرنے پر تیار ہیں‘۔

بدھ کو اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں محمود عباس نے کہا تھا کہ فلسطینی دو دہائیاں قبل اسرائیل کے ساتھ ہونے والے اوسلو امن سمجھوتوں کا مزید پابند نہیں رہا۔

اُنھوں نے عالمی ادارے سے کہا کہ فلسطینیوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کیا جائے اور اسرائیل پر فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کا الزام لگایا، جب کہ وہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں نئی اسرائیلی بستیاں تعمیر کر رہا ہے۔

عباس نے کہا کہ فلسطینی 1993ء کے امن معاہدے کی حرمت کی پابندی جاری نہیں رکھ سکتے اور یہ کہ ’ایک قابض ملک کے طور پر اسرائیل کو مکمل طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہیئں‘۔

عباس نے مزید کہا کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت اور ریاست کے طور پر تسلیم کیے جانے کا پورا حق ہے۔


XS
SM
MD
LG