رسائی کے لنکس

logo-print

افریقہ: اقوام متحدہ کی طرف سے جنسی استحصال کے الزام کی تحقیقات


بان کی مون نے جنسی استحصال کو ایک ’’عالمی لعنت اور ایک منظم چیلنج‘‘ کہا تھا۔ ان کے بقول وہ ’’یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف ایک مشن تک محدود نہیں بلکہ اس سے بہت آگے پھیلا ہوا ہے۔‘‘

جمہوریہ وسطی افریقہ میں اقوام متحدہ کے مشن میں شامل ایک غیر فوجی اہلکار پر جنسی بداخلاقی کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ گزشتہ 17 ماہ میں سامنے آنے والا 17 واں واقعہ ہے جس میں امن اہلکار اور استحصال کا شکار ہونے والے 11 سال تک کی کم عمر کے مقامی بچے شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے مشن نے منگل کو کہا کہ تازہ ترین الزام ہفتے کو ہونے والے ایک واقعے سے متعلق ہے۔

بیان میں امن اہلکاروں کی طرف سے ’’ جنسی استحصال کے کسی بھی واقعے‘‘ کی مذمت کی گئی ہے۔ مگر اس بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور ملزم کی شہریت کی شناخت نہیں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکام کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

جمہوریہ وسطی افریقہ میں اقوام متحدہ کے مشن نے اپریل 2014 کو افریقی یونین سے امن کے قیام کے فرائض لے لیے تھے۔ جرم کا ارتکاب کرنے والے فوجیوں کو ان کی اپنی حکومتیں ہی سزا دے سکتی ہیں جبکہ اقوام متحدہ کا کردار ملزموں کی وطن واپسی تک محدود ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے گزشتہ ماہ جمہوریہ وسطی افریقہ میں اقوام متحدہ کے سب سے اعلیٰ عہدیدار سینیگال کے سفارت کار اور فوجی افسر باباکار گے کو برطرف کر دیا تھا۔

باباکار گے کی خدمات کی تعریف کرنے کے باوجود بان کی مون نے جنسی استحصال کو ایک ’’عالمی لعنت اور ایک منظم چیلنج‘‘ کہا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’’یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف ایک مشن تک محدود نہیں بلکہ اس سے بہت آگے پھیلا ہوا ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG