رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل اور فلسطین کی پیش کردہ رپورٹوں پر بان گی مون کا محتاط ردعمل


اسرائیل اور فلسطین کی پیش کردہ رپورٹوں پر بان گی مون کا محتاط ردعمل

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے جمعرات کے روز عالمی ادارے کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وہ یہ نتیجہ اخذ کرنے سے قاصر ہیں کہ کیا اسرائیل اور فلسطین نے غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کی آزادانہ اور قابل بھروسہ تحقیقات کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے تحقیقات کا شروع کردہ عمل جاری ہے جب کہ فلسطین نے اس حوالے سے دس روز قبل کام شروع کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ایک پینل کی طرف سے ایک سال قبل غزہ میں اسرائیل اور حماس پر جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام عائد کیا اور طرفین کو اس کی تحقیقات کرنے کے لیے جمعے تک کا وقت دیا تھا۔ جنرل اسمبلی نے گولڈسٹون نامی ایک رپورٹ کی تین ماہ قبل توثیق کی تھی جس میں اسرائیل اور حماس پر غزہ کی لڑائی کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

جنرل اسمبلی نے بان گی مون سے کہا ہے کہ وہ تین ماہ قبل منظور کی جانے والی قرارداد پر اسرائیل اور فلسطین کی پاسداری پر پورٹ پیش کرے۔

گذشتہ ہفتے عالمی ادارے کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں اسرائیل نے بتایا تھا کہ اس کے فوجیوں نے لڑائی میں موزوں کردار ادا کیا جب کہ اسی روز فلسطین نے بھی اپنی ابتدائی رپورٹ اقوام متحدہ کو پیش کی۔ مسٹر بان نے بدھ کے روز سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ انھیں حماس کی طرف سے کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔

حماس نے اقوام متحدہ کے تحقیقاتی پینل کے اس جائزے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سرحد پار فائرنگ میں اس نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا۔

یاد رہے کہ دسمبر 2008ء سے جنوری 2009ء تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں لگ بھگ 1400 فلسطینی اور 13 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG