رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری ہتھیاروں پر عالمی پابندی، امریکہ سمیت کئی ممالک کی مخالفت


اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی

اقوام متحدہ میں عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے سے متعلق اجلاس جاری ہے جس میں جوہری ہتھیار کے حامل ممالک اس تجویز کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔

پابندی کی تجویز دینے والوں کے نزدیک جوہری ہتھیار عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں اور انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر یہ ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں تو ان کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔

120 ممالک نے گزشتہ سال اس بارے میں معاہدے پر بات چیت کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

تخفیف اسلحہ کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ کم وون سو کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیار "انسانیت کے لیے خطرناک ہیں،" اور جن کی تخفیف کی اس سے قبل کبھی اتنی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

"جوہری اور غیر جوہری اسٹریٹیجک بنیادوں کے حصول کی نا ختم ہونے والی کوشش امن فراہم نہیں کرے گی بلکہ یہ عدم استحکام کے لیے ہتھیاروں کی نئی دوڑ کو مہمیز اور علاقائی اور بین الاقوامی کشیدگی کا باعث بنے گی۔"

امریکہ، برطانیہ، فرانس اور لگ بھگ دیگر 20 ممالک نے پیر کو اس پابندی کی مخالفت کی۔ روس اور چین بھی اس تجویز کے مخالف ہیں اور وہ اس بات چیت میں حصہ نہیں لے رہے۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ حکام کو سلامتی کے خطرات سے متعلق "حقیقت پسندانہ" ہونا چاہیے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو محفوظ رکھیں۔

"ایک ماں، ایک بیٹی کی حیثیت سے میں اس سے زیادہ اور کیا چاہوں کی گی کہ میرا خاندان جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا میں رہے، لیکن ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے۔ یہاں کوئی ایسا موجود ہے جو یہ یقین کرتا ہو کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں پر پابندی پر راضی ہوگا؟"

جاپان کے نمائندے نوبوشگی تاکامیزاوا نے بھی شمالی کوریا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی طرف سے حالیہ جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کی دھمکیاں خطے اور دنیا کے لیے"کی سلامتی کے لیے فوری خطرہ ہیں۔"

اگر اقوام متحدہ کے ارکان اس پابندی پر متفق ہو جاتے ہیں تو اس کا اطلاق صرف ان ہی ملکوں پر ہوگا جو اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG