رسائی کے لنکس

logo-print

افغان پناہ گزینوں کی دیکھ بھال، جنرل اسمبلی میں بحث کا مطالبہ


پاکستان کو یقین دلاتے ہوئے، جنرل اسمبلی کی منتخب صدر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی گھروں کو واپسی کے سلسلے میں عالمی ادارہ بھرپور معاونت جاری رکھے گا، جس ضمن میں، بقول اُن کے، ’فنڈز کے اجراء میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی‘

محدود وسائل کے باوجود افغان پناہ گزینوں کی مسلسل تین دہائیوں سے میزبانی پر عالمی برادری نے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے، ایسے میں جب پاکستان نے پناہ گزینوں کی حالت زار جنرل اسمبلی میں زیر بحث لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

’عالمگیر سطح پر پناہ گزینوں کی حالت زار اور جبری بے دخلی‘ کے موضوع پر اقوام متحدہ کی عمارت میں معقدہ ایک تقریب کا اہتمام پاکستانی مشن نے کیا تھا۔

اس موقع پر پینل میں شامل اس عالمی ادارے کی مختلف ایجنسیز کے سربراہوں اور رکن ممالک کے نمائندوں نے پاکستان پر پڑنے والے افغان پناہ گزینوں کے اس بڑی ذمہ داری کا بحسن و خوبی سامنا کرنے پر پاکستانی قوم کو خراج تحسین پیش کیا۔

جنرل اسمبلی کی منتخب صدر، موگن کیک ٹوفٹ اور انڈر سیکریٹری جنرل کرسٹینا گللیچ نے پاکستان کو یقین دلایا کہ افغان پناہ گزینوں کے گھروں کو واپسی کے سلسلے میں عالمی ادارہ بھرپور معاونت جاری رکھے گا، جس ضمن میں، بقول اُن کے، ’فنڈز کے اجراء میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی‘۔

قبل ازیں اپنے خطاب میں پاکستان کی مستقل مندوب، ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا آج تاریخی انسانی المیہ سے دوچار ہے، یورپ، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیاء اور افریقہ میں بے دخلی اور جبری ہجرت کے مسائل سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔

ملیحہ لودھی نے ’یو این ایچ سی آر‘ کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئےبتایا کہ تنازعات اور غربت کے باعث اس وقت دنیا کے 6 کروڑ لوگ ہجرت کرکے پناہ گزین بننے پر مجبور ہیں، جن میں نصف سے زائد تعداد بچوں کی ہے جن کی مؤثر دیکھ بھال نہیں ہو پا رہی۔

انھوں نے عالمی براردی کو یاد دلایا کہ روانڈا اور بوسنیا کے المیے میں انسانیت کو جس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا، ایک بار پھر مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں انسانیت کو درپیش سنگین صورتحال عالمی برداری کی شرمندگی کا باعث بنے گا۔

ملیحہ لودھی نے روہنگیا مسلمانوں کا حوالہ دیا، جن کے بقول، انھیں نہ صرف ان کے گھروں سے جبری بے دخل کیا گیا، بلکہ ان میں سے لاکھوں خواتین مرد اور بچے ہلاک اور لاپتا کردئے گئے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے منتخب صدر پر زور دیا کہ وہ اس عالمی ادارے کے پلیٹ فارم سے پناہ گزینوں کی حالت زار کو زیر بحث لائیں اور اس سنگین انسانی مسئلے سے نمٹنے کے لئے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جائے۔

XS
SM
MD
LG