رسائی کے لنکس

logo-print

یمن میں عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کی گئیں: اقوام متحدہ


ایک نئی رپورٹ میں ماہرین نے کہا کہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کرنے والے سعودی اتحاد نے 119 ایسے فضائی حملے کیے جن میں ممکنہ طور پر انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔

اقوام متحدہ کے ایک پینل نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ یمن میں تمام فریقین کی طرف سے عالمی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے تحقیقات کا حکم دے۔

ایک نئی رپورٹ میں ماہرین نے کہا کہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کرنے والے سعودی اتحاد نے 119 ایسے فضائی حملے کیے جن میں ممکنہ طور پر انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ان میں سے بہت سے حملوں میں شہری نشانہ بنے جن میں مہاجرین کے کیمپ، شادی کی تقاریب، سکول، بازار اور رہائشی علاقے شامل تھے۔

ماہرین نے کہا کہ کم از کم تین ایسے واقعات ہوئے جن میں ہیلی کاپٹروں نے شہریوں کا پیچھا کیا اور ان پر فائرنگ کی۔

اس رپورٹ میں ایسے جنگی ہتھکنڈوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے’’جن میں فاقہ کشی کو جنگ کے ہتھیار کے طور استعمال کیا گیا جس کی ممانعت ہے۔‘‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’سعودی اتحاد یا کسی یمنی فریق نے یمنی عوام کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے انسانی امداد کے لیے کسی بھی جنگ بندی کی مکمل طور پر پابندی نہیں کی۔‘‘

ماہرین کو یمن میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہوں نے سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر ذرائع کی مدد سے اپنی رپورٹ مرتب کی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ یمن کی 82 فیصد سے زائد آبادی کو خوراک اور طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔

یمنی اور عرب زمینی افواج کی مدد سے سعودی اتحاد دارالحکومت صنعا پر قابض ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو وہاں سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس جنگ میں 5,800 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن کی ایک بڑی تعداد عام شہریوں پر مشتمل ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ملک میں جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

یمن کی عالمی حمایت یافتہ حکومت حال ہی میں سعودی عرب سے واپس یمن پہنچی ہے جہاں وہ عدن میں اپنا کام شروع کرے گی۔

XS
SM
MD
LG