رسائی کے لنکس

logo-print

اسانج 'قانونی جواز کے بغیر حراست' میں رہے ہیں: اقوام متحدہ کے پینل کا فیصلہ


پینل نے انھیں رہا کرنے اور ان کی تکالیف کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن قانونی طور پر اس فیصلے پر عملدرآمد قانونی کروایا جانا لازمی نہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک پینل نے فیصلہ سنایا ہے کہ وکی لیکس کے بانی جولیان اسانچ قانونی جواز کے بغیر تحویل میں رہے ہیں لہذا انھیں رہا کیا جائے۔

اسانچ گزشتہ چار سالوں سے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور اب ان کا کہنا ہے کہ وہ یہاں سے نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

لیکن برطانوی پولیس کا موقف ہے کہ وہ اب بھی انھیں گرفتار کرنے کی پابند ہے۔ اسانچ جنسی زیادتی کے ایک مقدمے میں سویڈن کو مطلوب ہیں لیکن وہ اس الزام کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

غیر قانونی حراست سے متعلق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ، جس میں غیر جانبدار ماہرین شامل ہیں، نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ "آزادی کے استحصال سے متعلق بہت سے اشکال کا جولیان اسانچ شکار رہے ہیں اور بنا پر (سفارتخانے میں ان کا قیام) قانونی جواز کے بغیر کے زمرے میں آتا ہے۔"

پینل نے انھیں رہا کرنے اور ان کی تکالیف کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن قانونی طور پر اس فیصلے پر عملدرآمد قانونی کروایا جانا لازمی نہیں۔

ملک بدری کے معاہدے کے تحت برطانیہ اسانچ کو گرفتار کر کے سویڈن کے حوالے کر دے گا جس کا کہنا ہے کہ اسانچ کے خلاف تحقیقات جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسانچ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ جمعہ کو دیر گیے سفارتخانے سے باہر آئیں گے اور ایک پریس کانفرنس کریں گے۔

اسانچ کا موقف رہا ہے کہ سویڈن جنسی زیادتی کے معاملے کو بہانہ بنا کر انھیں امریکہ کے حوالے کرنا چاہتا ہے جو خفیہ معلومات کو افشا کرنے کی پاداش میں ان پر مقدمہ چلانا چاہتا ہے۔

آسٹریلوی شہری اسانچ، نے وکی لیکس پر متعدد ایسی سفارتی خط و کتابت اور دیگر حساس معلومات افشا کی تھی جسے امریکہ خفیہ معلومات تصور کرتا ہے۔

یہ امریکی تاریخ میں خفیہ معلومات کے افشا کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔

XS
SM
MD
LG