رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کے نئے حملوں کے اعلان پر سلامتی کونسل کی تنقید


فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغان طالبان کی طرف سے غیر ملکی افواج پر نئے حملوں کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے افغان عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا اور یہ حملے افغانستان کی مزید بربادی کا سبب بنیں گے۔

افغان طالبان نے گزشتہ ہفتے افغان فوج، نیٹو اور امریکی فورسز کے خلاف موسمِ بہار کے آغاز کے ساتھ ہی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بات چیت کے متعدد دور ہو چکے ہیں اور رواں ہفتے افغانستان کے ایک کثیر الفریقی وفد اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا نیا دور متوقع ہے۔

سلامتی کونسل نے منگل کو جاری ایک بیان میں افغانستان کے تنازع کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان رابطوں کا فائدہ اٹھا کر تمام افغانوں کے درمیان ایسے مذاکرات شروع کریں جس کے نتیجے میں افغان تنازع کا سیاسی حل سامنے آ سکے۔

طالبان کی طرف سے عسکری مہم شروع کرنے کے اعلان کے بعد طالبان نے گزشتہ ہفتے شمالی شہر قندوز پر حملے کیے تھے۔

لیکن سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ مزید لڑائی افغانستان میں پائیدار امن کے حصول کے لیے کسی طور سود مند نہیں ہے۔

طالبان کے ساتھ بات چیت میں امریکی وفد کی قیادت کرنے والے سفیر زلمے خلیل زاد نے بھی کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ یک زبان ہو کر طالبان کی طرف سے موسم بہار میں حملوں کے اعلان کی مذمت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

خلیل زاد نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا بیان اس بات کا مظہر ہے کہ جنگ اور تشدد کو ختم کرنے کا وقت بہت پہلے گزر چکا ہے۔ اب جنگ بندی کر کے بات چیت شروع کرنے کا وقت ہے۔"

امریکی ایلچی نے کہا ہے کہ جو فریق ان مقاصد کی مخالفت کرے گا وہ تاریخ کی غلط سمت میں ہو گا۔

افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد متعدد بار طالبان سے اپیل کر چکے ہیں کہ وہ جنگ بند کر دیں اور افغان حکومت سے بھی مذاکرات کریں۔ لیکن طالبان کا موقف یہ رہا ہے کہ افغان حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی ہے جس سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG