رسائی کے لنکس

logo-print

ہیلمند: فضائی کارروائی میں شہری ہلاکتوں کا دعویٰ، تفتیش جاری


بیان میں توجہ دلائی گئی ہے کہ امریکی فوج نے اس واقعے کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق، ادارے کی ابتدائی چھان بین سے پتا چلتا ہے کہ ''ممکنہ طور پر کم از کم 18 شہری ہلاک ہوئے۔۔۔ ''

اقوام متحدہ نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ گذشتہ ہفتے افغانستان کے جنوبی علاقے میں ہونے والی امریکی فضائی کارروائیوں میں اطلاعات ہیں کہ کم از کم 18 شہری ہلاک ہوئے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے اعانتی مشن کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ فضائی حملے جمعرات اور جمعے کو صوبہ ہیلمند میں لڑائی کے شکار سنگین کے علاقے میں کیے گئے۔

بیان میں توجہ دلائی گئی ہے کہ امریکی فوج نے اس واقعے کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق، ادارے کی ابتدائی چھان بین سے پتا چلتا ہے کہ ''ممکنہ طور پر کم از کم 18 شہری ہلاک ہوئے، جن میں تمام خواتین یا پھر بچے ہیں''۔

جمعے کے روز، امریکی فوج کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ نے علاقے میں طالبان کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے، جب کہ اس بات کی چھان بین کی جا رہی ہے آیا فضائی کارروائی میں شہریوں کی مبینہ ہلاکتیں واقع ہوئیں۔

بیان میں ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ''ہم شہریوں کی مبینہ ہلاکت سے متعلق رپورٹوں سے آگاہ ہیں، اور ایسی اطلاعات کی انتہائی سنجیدگی سے چھان بین کی جاتی ہے''۔

ہیلمند کے گورنر اور فوجی کمانڈروں نے سنگین میں شہری ہلاکتوں کے الزامات کی تردید کی ہے۔

اُنھوں نے اِس بات پر زور دیا ہے کہ اِن فضائی حملوں کی مدد سے باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور تقریباً 60 طالبان لڑاکے ہلاک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG