رسائی کے لنکس

logo-print

اگلے سال دنیا میں امدادی سرگرمیوں کا تخمینہ، 22 ارب ڈالر سے زیادہ


گو کہ عالمی سطح پر امداد کے لیے کی جانے والی اپیلوں کو پوری رقم تو کم ہی حاصل ہوسکی ہے لیکن یہ دنیا بھر میں ضرورتمند لوگوں کی صورتحال کو نشاندہی ضرور کرتی ہے۔

انسانی ہمدری کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے امدادی ادارے نے کہا ہے کہ آئندہ سال دنیا بھر میں تنازعات اور قدرتی آفات سے متاثر ہونے والوں کی معاونت کے لیے 22 ارب بیس کروڑ ڈالر درکار ہوں گے جو کہ رواں سال کی گئی درخواست سے 10 فیصد زیادہ ہے۔

پیر کو ادارے کی طرف کی سے جاری کی گئی درخواست کے مطابق 2017ء کے لیے درکار رقم کا ایک تہائی یعنی تقریباً آٹھ ارب دس کروڑ ڈالر صرف شام میں مقیم لوگوں اور یہاں سے دیگر ملکوں کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں پر خرچ ہونے کی توقع ہے۔

ادارے کا اندازہ ہے کہ اسے لگ بھگ نو کروڑ تیس لاکھ افراد کو معاونت فراہم کرنا ہو گی۔

ادارے کے سربراہ اسٹیفن او برائن کے مطابق یہ اب تک کی جانے والی اپیلوں میں سب سے زیادہ رقم ہے۔

"یہ دنیا میں انسانی ضروریات کی ایسی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے دیکھنے میں نہیں آئی۔ 12 کروڑ 80 لاکھ افراد کو فوری طور پر تحفظ اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے ہماری مدد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔"

جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے او برائن کا کہنا تھا کہ "اس میں سے 80 فیصد ضروریات نے انسانوں کے پیدا کردہ تنازعات سے جنم لیا ہے جو کہ طوالت اختیار کرتے ہوئے سال بہ سال آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔"

گو کہ عالمی سطح پر امداد کے لیے کی جانے والی اپیلوں کو پوری رقم تو کم ہی حاصل ہوسکی ہے لیکن یہ دنیا بھر میں ضرورتمند لوگوں کی صورتحال کو نشاندہی ضرور کرتی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ تنازعات بشمول یمن، شام، جنوبی سوڈان اور نائیجیریا میں معاملات اتنی بڑی رقم کی اپیل کی بڑی وجہ ہیں۔ لیکن اس کے بقول ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے قدرتی آفات کے شکار ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG