رسائی کے لنکس

logo-print

دنیا بھر میں بے گھر افراد کی تعداد 7 کروڑ سے تجاوز کر گئی


فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 7 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے جنھیں تنازعات، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے۔

یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے افغان مہاجرین نے مہاجرین کے عالمی دن کے موقع پر ایک بیان میں کہی ہے جو جمعرات کو دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی منایا گیا ہے۔ تنازعات اور جنگوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد سے یکجہتی اور انہیں حوصلے دینے کے لیے دنیا بھر میں 20 جون کو مہاجرین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

اس موقع پر عالمی ادارے کے تحت اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں یو این ایچ سی کے پاکستان میں نمائندہ روینڈرین مینکدی ویلا کا کہنا ہے کہ 7 کروڑ 8 لاکھ افراد بےگھر ہیں۔ تاہم یہ کوئی نمبر نہیں بلکہ یہ انسان ہیں۔ ان کی امید کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔’’

عالمی ادارے کے نمائندے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے مہاجرین کی 84 فیصد تعداد ترقی پزیر ملکوں میں رہتی ہے جنہیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ صرف 16 فیصد مہاجرین ترقی یافتہ ملکوں میں مقیم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن ان کے مسائل کے حل کی کوششو ں میں کمی دیکھی گئی ہے۔

‘‘گزشتہ سال ایک کروڑ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا لیکن صرف 30 لاکھ افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکے ہیں۔ ’’

یاد رہے کہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ملکوں میں پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے جو 14 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے جبکہ ترکی مہاجرین کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جہاں 34 لاکھ مہاجرین مقیم ہیں۔

یو این ایچ سی کی نمائندہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برداری پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اور ان کی میزبانی کرنے والی مقامی برداریوں کی مدد کرنے کے لیے مزید وسائل فراہم کرے۔

اس موقع پر پاکستان کے سرحدی اور ریاستی امور کے وزیر شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی مشکلات کے باوجود ایک طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے اور ان کے بقول مہاجرین کے مسائل کو حل کرنا بین الاقوامی بردادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG