رسائی کے لنکس

logo-print

حکمت یار کا نام دہشت گردوں کی عالمی فہرست سے خارج


گزشتہ ستمبر میں کابل میں امن معاہدے پر دستخط کی تقریب سے حکمت یار نے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا تھا۔

اس پیش رفت کے بعد اس مفرور عسکریت پسند راہنما کی سالوں بعد افغان سیاست واپسی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ نے سابق افغان عسکریت پسند راہنما گلبدین حکمت یار کا نام بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کرتے ہوئے ان پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔

جمعہ کو عالمی تنظیم کی سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ "اب اثاثوں کا انجماد، سفری پابندی اور اسلحے کی خریدوفروخت کی قدغن۔۔۔ ان (حکمت یار) پر لاگو نہیں ہوتیں۔"

اقوام متحدہ کی طرف سے یہ اقدام افغانستان کے صدر اشرف غنی کی حکومت اور گلبدین حکمت یار کی تنظیم حزب اسلامی کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے۔

اس معاہدے میں کہا گیا تھا کہ حکمت یار افغان حکومت کے خلاف لڑائی بند کرنا ہو گی جس کے عوض حکومت ان کے اور ان کی تنظیم کے دیگر راہنماؤں کا نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے خارج کروائے گی اور اس تنظیم کو افغانستان میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دے گی۔

جمعہ کو ہونے والی اس پیش رفت کے بعد اس مفرور عسکریت پسند راہنما کی سالوں بعد افغان سیاست واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مبینہ طور پر پڑوسی ملک پاکستان میں روپوش ہیں، گو کہ ان کے اقربا کا اصرار ہے کہ حکمت یار افغانستان میں ہی کہیں موجود ہیں۔

حکمت یار کی امن مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن عتیق اللہ صفی نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کو تصدیق کی کہ ان کے راہنما کا نام اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کیے جانے کی باضابطہ اطلاع گروپ کو فراہم ہو گئی ہے۔

تاحال افغان حکومت کے عہدیداروں کی طرف سے اس پیش رفت پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

حکمت یار کا حزب اسلامی نامی گروپ گزشتہ 15 سالوں تک امریکہ کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خلاف لڑتا آ رہا تھا۔ حکمت یار کو 2003ء میں القاعدہ سے ان کے تعلق کی بنا پر دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

گلبدین حکمت یار کو جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ان کے حامی 1980ء کی دہائی میں افغانستان میں مداخلت کرنے والی سابق سوویت یونین کی فوجوں کے خلاف بھی برسر پیکار رہے۔

بعد ازاں 1990ء کی دہائی میں وہ افغانستان پر تسلط جمانے کے لیے طالبان کے ساتھ بھی نبرد آزما رہے۔

امریکہ نے بھی حکمت یار کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری سے متعلق معلومات کی فراہمی پر لاکھوں ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔ لیکن واشنگٹن نے حزب اسلامی کے ساتھ کابل کے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں سالوں سے جاری تنازع کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کے لیے اقدام کرے گا۔

تاہم طالبان عسکریت پسند تاحال نہ صرف افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت سے انکاری بلکہ ملک بھر میں تشدد پر مبنی اپنی کارروائیوں کو مہمیز کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG