رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے خلاف جنسی زیادتی کے 31 نئے الزامات


کانگو میں تعینات امن مشن کے اہلکار (فائل فوٹو)

اقوام متحدہ نے اپنے امن مشن کے لیے کام کرنے والے فوجیوں اور اور دیگر اداروں کے سول اہلکاروں کے خلاف جنسی زیادتیوں کے 31 نئے الزامات سامنے آنے کا بتایا ہے۔

جمعہ کو اپنی رپورٹ میں ادارے نے بتایا کہ یہ کیسز جولائی سے ستمبر کے درمیان سامنے آئے اور ان میں سے نصف سے زائد ان کارکنوں کے خلاف ہیں جنہیں پناہ گزینوں کی مدد کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن یوہارک نے یہ اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل اینتونیو گوئتریس بلاشبہ ان "جاری سرگرمیوں پر مایوس اور افسردہ ہیں۔"

اقوام متحدہ کو گزشتہ کئی برسوں سے ایسے الزامات کا سامنا رہا ہے جن میں خاص طور پر وسطی افریقی جمہوریہ اور کانگو میں تعینات اس کے امن مشن کے اہلکاروں پر بچوں ساتھ جنسی زیادتی سمیت دیگر جنسی استحصال کا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے۔

ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال امن مشن کے اہلکاروں پر 80 جب کہ دیگر سویلین اسٹاف پر جنسی استحصال اور زیادتیوں کے 65 الزامات سامنے آئے۔

اینتونیو گوئتریس (فائل فوٹو)
اینتونیو گوئتریس (فائل فوٹو)

گوئتریس نے مارچ میں ایسے نئے اقدام کا اعلان کیا تھا جن کا مقصد اقوام متحدہ کے کارکنوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے جنسی استحصال کے واقعات کو روکنے سمیت ان زیادتیوں کے شکار افراد پر توجہ بڑھانا اور امن مشن کے فوجی اہلکاروں کے لیے شراب پر پابندی شامل تھا۔

یوہارک کے مطابق یکم جولائی سے 30 ستمبر کے دوران امن مشن کے فوجیوں کے خلاف 19 جب کہ اقوام متحدہ کے دیگر دفاتر سے وابستہ سویلین اسٹاف کے لیے 19 الزامات رپورٹ ہوئے۔

ان میں سے 15 اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" کے کارکنوں کے خلاف ہیں۔

ترجمان کے بقول مبینہ زیادتی کے شکار ہونے والوں میں کم از کم 24 خواتین اور چھ لڑکیاں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کی تحقیقات کی گئیں ہیں اور اب تک ایک میں ایسے ٹھوس شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد پر یو این ایچ سی آر کے اہلکار کے ملوث ہونے کا پتا چلتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG