رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان القاعدہ رابطے برقرار ہیں: اقوامِ متحدہ کی رپورٹ


افغانستان میں مظاہرین داعش کے جھنڈے کو نذر آتش کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اب بھی القاعدہ سے رابطے میں ہیں۔

اقوام متحدہ نے افغانستان کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جو اس کی بین الاقوامی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے تیار کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے اب بھی القاعدہ سے رابطے ہیں جو امریکہ پر نائن الیون حملوں کی ذمہ دار ہے اور طالبان نے ان سے تعلق توڑنے کی بجائے اسے مضبوط بنایا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی اندرونی پیغام رسانی سے پتا چلتا ہے کہ وہ سخت گیر رویہ قائم رکھنے کی تلقین کرتے ہیں اور طالبان کو اعتماد ہے کہ وہ طاقت کے بل پر اقتدار حاصل کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ خطرہ موجود ہے کہ وہ بین الافغان مذاکرات کو کسی نہ کسی بہانے کی آڑ میں اس وقت تک التوا میں ڈالے رہیں گے جب تک بین الاقوامی افواج کا افغانستان سے انخلا نہیں ہو جاتا۔

لیکن، اعلیٰ امریکی عہدیدار توقع کرتے ہیں کہ طالبان اپنے معاہدے پر قائم رہیں گے اور بین الافغان مذاکرات کی جانب مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔

افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے واشنگٹن میں ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ قیدیوں کی رہائی اور تشدد میں کمی کے معاملے پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک نگراں گروپ ہے جو اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے طالبان اپنے وعدوں پر کس طرح عمل کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بارے میں ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ رپورٹ میں پندرہ مارچ تک کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے، جبکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ فروری کے آخر میں ہوا ہے۔ وعدوں کو پورا کرنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔ اور انہوں نے کہا کہ معاہدے سے امریکہ کی وابستگی طالبان کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل درآمد سے ہے۔

افغان امور پر نظر رکھنے والے ماہرین اور تجزیہ کار اس رپورٹ کے بارے میں اپنے اپنے خیالات رکھتے ہیں۔ افغان صحافی اور تجزیہ کار ڈاکٹر حسین یاسا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر زمینی حقائق کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ باور کرنا زیادہ مشکل نہیں ہو گا کہ طالبان اور القاعدہ کے درمیان تعلقات جتنے قدیم اور گہرے رہے ہیں وہ اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے منقطع کیسے ہوجائیں گے۔

انہوں نے توجہ دلائی کہ گزشتہ برس تقریباً اسی وقت اقوام متحدہ کی ایک اور رپورٹ آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کے بیشتر دہشت گرد گروپ طالبان کی چھتری تلے ہیں۔ اور شمالی اور مشرقی افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کی یہ ہم آہنگی زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا کہ افغان امن عمل کو پٹڑی سے اتارنے کے لئے یہ رپورٹ لائی گئی ہے۔ لیکن، انہوں نے کہا کہ بقول ان کے، طالبان کے معاملے میں جو لچک امریکہ دکھا رہا ہے۔ اتنی لچک دوسرے اسٹیک ہولڈر ممالک۔ شاید نہ دکھائیں۔ اور یہ ضمانت چاہیں گے کہ طالبان معاہدے پر پوری طرح سے عمل کریں گے۔

ایک اور افغان صحافی اور تجزیہ کار میر ویس افغان نے کہا ہے کہ اس وقت طالبان سوچ کے لحاظ سے کم از کم تین دھڑوں میں بٹّے ہوئے ہیں۔ بقول ان کے، شاید یہ سچ بھی ہو کہ القاعدہ سے جو اس وقت افغانستان میں ایک پوشیدہ تنظیم ہے طالبان کے رابطے موجود ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ طالبان تحریک بطور مجموعی القاعدہ سے رابطے میں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ بات راز نہیں رہ سکتی تھی۔

میر ویس افغان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے طالبان پر دباؤ پڑ سکتا کے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کریں۔

پاکستان میں میری ٹائم اسٹڈی فورم کے سلمان جاوید نے، جو دہشت گردی سے متعلق امور پر نظر رکھتے ہیں، کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ رپورٹ کسی بھی طور پر امن عمل کو متاثر کرے گی، کیونکہ جو قوتیں افغانستان میں امن کے لئے کوشاں ہیں وہ ان سب باتوں سے آگاہ ہیں۔ اور جو قوتیں امن کے عمل کو پٹری سے اتارنا چاہتی ہیں وہ اس رپورٹ کو طالبان کو امن کے عمل سے برگشتہ کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہیں گی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ اس وقت افغانستان میں امن عمل کے لئے جو تنظیم سب سے بڑا خطرہ ہے، یعنی داعش، اسے رپورٹ میں اسے بیشتر نظر انداز کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کا امن عمل پر مثبت اثر پڑے گا یا منفی، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن، اس وقت دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی کے عمل میں تیزی اور جنگ بندی کے بعد تشدد میں نسبتاً کمی بظاہر مثبت اشارے نظر آتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG