رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کے خلاف بیان پر خلیل زاد طالبان کے معترف


(فائل فوٹو)

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں شدت پسند گروہ داعش سے متعلق طالبان کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ طالبان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ داعش کی طرف سے فنڈ جمع کرنے، بھرتیوں اور تربیت فراہم کرنے کی کوششوں کو روکیں گے۔

خلیل زاد نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ طالبان کا یہ بیان ان کی طرف سے کھلے عام ہمارے معاہدے میں القاعدہ اور ان تمام گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی لیے خطرہ ہیں۔

خلیل زاد نے کہا کہ امریکہ یہ توقع کرتا ہے کہ کہ طالبان تمام وعدوں کو پورا کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ بھی طالبان کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ لیکن اس کا انحصار طالبان پر ہو گا۔

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ داعش سے متعلق طالبان کے بیان اور افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ میں طالبان کی داعش کے خلاف کارروائیاں مثبت اقدام ہے۔

طالبان کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ طالبان جنگجوؤں نے داعش کے گڑھ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ طالبان انہیں افغان سرزمین پر پنپنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

طالبان نے مزید کہا تھا کہ داعش کے خلاف آپریشنز جاری رہیں گے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو طے پانے والے معاہدے کے بعد امریکہ کے نمائندہ خصوصی خلیل زاد نے پہلی بار کھلے عام داعش کے خلاف طالبان کی کارروائیوں کو سراہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط ہونے سے پہلے فریقین نے کئی امور پر بات چیت کی۔ جن میں ایک محفوظ افغانستان، امریکی اور اتحادی فورسز کا انخلا، بین الافغان مذاکرات اور جنگ بندی کے اُمور شامل تھے۔

اگرچہ امریکی حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے بعد طالبان نے امریکی فورسز کے خلاف حملے روک دیے ہیں تاہم افغان سیکورٹی فورسز کے خلاف شہروں کے باہر حملے جاری ہیں۔

امریکہ طالبان معاہدے میں اتفاق ہوا تھا کہ معاہدہ طے پانے کے 135 دنوں میں افغانستان میں تعینات 13 ہزار امریکی اور اتحادی فوج کی تعداد 8600 کر دی جائے گی۔ 14 ماہ کے اندر دیگر فورسز کا انخلا مکمل ہو جائے گا۔

معاہدے کے تحت طالبان نے اس بات کی ضمانت دی تھی کہ ان کے زیرِ اثر علاقوں میں کسی بھی شدت پسند گروپ کو منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جو امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہو۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہیں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ وہ افغانستان میں اپنے زیرِ اثر علاقوں میں کرونا وائرس کی روک تھام لیے صحت کی بین الاقوامی تنظیموں اور صحت کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ او سے تعاون کرنے پر تیار ہیں۔

انہوں نے عالمی امدادی اور صحت کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں قید ہزاروں قیدیوں کی صحت کی طرف خصوصی توجہ دیں۔

طالبان ترجمان کا بیان افغانستان کے انسانی حقوق کے کمیشن کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کمیشن نے طالبان سے درخواست کی تھی کہ وہ صحت کے کارکنوں کو اپنے زیرِ اثر علاقوں میں جانے کی اجازت دیں تاکہ وہ کرونا وائرس سے متعلق آگاہی دے سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG