رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان، داعش کے اسپتالوں پر دانستہ حملوں کا نشانہ بچے بنتے ہیں: رپورٹ


فائل

بچوں اور مسلح تنازع پر نگرانی کرنے والے ادارے ’واچ لسٹ‘ نے جمعے کو اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ طالبان، داعش اور افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) لڑائی کے ایک حربے کے طور پر، طبی سہولیات اور اہل کاروں کو دانستہ طور پر نشانہ بناتے ہیں۔

’واچ لسٹ‘ اِس نتیجے پر پہنچی ہے کہ 2017ء میں افغانستان کے تنازعے میں ملوث فریق نے ملک کے 34 صوبوں میں سے کم ازکم 22 میں طبی سہولیات اور اہل کاروں پر کم از کم 63 حملے کیے۔

رپورٹ کے مطابق، اِن حملوں کے نتیجے میں صحت کی دیکھ بھال کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی جب کہ جاری تنازعے میں بچوں کی صحت برقرار رکھنے کا چیلنج مشکل ترین ہو چکا ہے، جس تنازع میں 2017ء کے دوران اضافہ دیکھا گیا، جس کے باعث جانی نقصان میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کرسٹائن موناگھن ’واچ لسٹ‘ کی تحقیقی اہل کار اور رپورٹ کی مصنفہ ہیں۔ بقول اُن کے، ’’اسپتالوں اور صحت سے متعلق کارکنان پر کیے جانے والے اِن حملوں کا ہدف بچوں کو ہی بنایا جا رہا ہے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’اِن حملوں کے نتیجے میں بچوں کو طبی امداد پہنچانے، اُن کی غذائی ضرورت کو پورا کرنا اور قابل علاج امراض پر توجہ دینا مشکل ہی نہیں، ناممکن بن جاتا ہے‘‘۔

اِن حملوں پر تحقیق کے کام کے حوالے سے، موناگھن نے 2016ء اور 2017ء میں أفغانستان کا دورہ کیا۔

اُن کی 2017ء کی رپورٹ کا عنوان تھا: ’اب ہر کلینک کسی محاذ جنگ پر قائم ہے‘ جس کے نتیجے میں افغانستان میں صحت عامہ کے اداروں پر حملوں کے بچوں پر بہت ہی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

جمعے کو جاری ہونے والی اِس دستاویز میں سنہ 2017 کی رپورٹ میں نئی معلومات کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اِس میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران، اِن عوامل کے باعث زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد بڑھی ہے، جب کہ وہ بچے جو خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں، اسہال کی بیماری میں مبتلہ ہیں اُن کی مدد کی جاسکتی ہے؛ جب کہ بروقت ویکسین دیے جانے سے وہ کئی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، جیسا کہ پولیو اور خسرہ۔

واچ لسٹ کی سفارشات میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کا اعانتی مشن، بچوں کے مشیران برائے حفظانِ صحت کو تعینات رکھا جائے، چونکہ وہ صحت کی دیکھ بھال اور صحت کے کارکنان پر ہونے والے حملوں کی اطلاعات اکٹھی کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

واچ لسٹ میں حکومت افغانستان پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ حملہ آوروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اقدام کرے، جس کے لیے حملوں کی تفتیش کی جانی چاہیئے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG