رسائی کے لنکس

logo-print

چھ ماہ میں چار ہزار افغان شہری ہلاک اور زخمی ہوئے: اقوامِ متحدہ


فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں رواں برس کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران تقریباً چار ہزار شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کے افغانستان مشن کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں جاری جنگ میں سیکورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے جس کے باعث رواں سال جنوری سے جون تک 3812 افغان شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کے افغانستان مشن نے یہ اعداد و شمار اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتائے ہیں جو منگل کو جاری کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کی نسبت رواں سال افغان فورسز اور اتحادی فوجوں کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے باوجود افغانستان میں جاری تشدد میں کمی نہیں آ سکی ہے جس کے باعث افغان شہریوں کی زندگیاں مسلسل خطرات میں گھری ہوئی ہیں۔

افغانستان میں گزشتہ ہفتے میں ایک ہی دن میں تین دھماکے ہوئے جن میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
افغانستان میں گزشتہ ہفتے میں ایک ہی دن میں تین دھماکے ہوئے جن میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ رواں سال افغانستان میں سب سے زیادہ ہلاکتیں چھاپوں اور سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران ہوئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال طالبان اور شدت پسندوں کے حملوں میں 531 افغان شہریوں کی جان گئی جب کہ 1437 افراد شدت پسندوں کے حملوں میں زخمی ہوئے۔

زیادہ تر حملے عام شہریوں، حکام، امدادی کارکنوں اور مذہبی رہنماؤں پر کیے گئے۔

کابُل میں اتوار کو صدارتی انتخابات کے امیدوار امراللہ صالح پر حملہ ہوا جس میں امراللہ محفوظ رہے تھے۔
کابُل میں اتوار کو صدارتی انتخابات کے امیدوار امراللہ صالح پر حملہ ہوا جس میں امراللہ محفوظ رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 717 افغان شہری ہلاک جب کہ 680 افراد زخمی ہوئے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ہلاک اور زخمیوں کی تعداد سے 31 فی صد زیادہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ہلاک ہونے والوں میں 144 خواتین اور 327 بچے بھی شامل ہیں جب کہ 1000 سے زائد خواتین اور بچے زخمی ہوئے۔

اس عرصے کے دوران سرکاری فوج اور اتحادیوں کے فضائی حملوں میں 519 شہری ہلاک ہوئے جن میں 150 بچے بھی شامل تھے۔

اقوامِ متحدہ کے افغانستان مشن کے سربراہ رچرڈ بینیٹ کا کہنا ہے کہ افغان جنگ کے تمام فریقین کے پاس ان ہلاکتوں کے بارے میں الگ الگ وضاحت ہے جس کا مقصد اپنی اپنی کارروائیوں کا دفاع کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے شہریوں کو نقصان سے بچانے کی کوششیں کی جانی چاہئیں اور جنگ کی شدت میں کمی لا کر اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین پر عمل کر کے افغان شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ کے اعداد و شمار کو افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگٹ نے مسترد کر دیا ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی معلومات اور اس کے حصول کا طریقۂ کار درست نہیں اور اس بارے میں امریکی فوج کا مرتب کردہ ڈیٹا زیادہ قابلِ اعتبار ہے۔

البتہ ترجمان نے افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ امریکہ کی فوج افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر شہریوں کی جان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

اتحادی افواج افغان سکیورٹی فورسز کے ہمراہ گزشتہ اٹھارہ سالوں سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔(فائل فوٹو)
اتحادی افواج افغان سکیورٹی فورسز کے ہمراہ گزشتہ اٹھارہ سالوں سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔(فائل فوٹو)

لیگِٹ کا کہنا تھا کہ اتحادی فوج شہریوں کی جانوں کے تحفظ کا ہمیشہ خیال رکھتی ہے۔

افغانستان کی حکومت اور طالبان نے اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت جاری کیے ہیں جب افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان 18 برسوں سے جاری جنگ بندی اور اتحادی فوجوں کے انخلا پر مذاکرات جاری ہیں۔

یہ مذاکرات اب ایک اہم موڑ پر پہنچ چکے ہیں اور دونوں فریقین کے درمیان امن معاہدہ جلد طے پانے کی توقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG