رسائی کے لنکس

گلوبل وارمنگ پر اقوام متحدہ کی رپورٹ: دنیا سرخ لکیر کے قریب پہنچ گئی


یونان میں خشک موسم کے باعث ساحلی علاقے کے قریب جنگلات میں لگنے والی آگ کے دھوئیں نے ایک بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ 7 اگست 2021

دنیا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ اقوام متحدہ نے موسم اور آب و ہوا سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں انتباہ کیا ہے کہ ہمارے لیے اب نہ تو کہیں بھاگنے اور نہ ہی کہیں چھپنے کی جگہ باقی رہ گئی ہے۔

آب و ہوا سے متعلق اقوام متحدہ کے دنیا بھر سے 234 سائنس دانوں پر مشتمل پینل کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس منظرنامے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ دنیا کو اس نہج پر لانے کے ذمہ دار خود حضرت انسان ہیں۔ کیونکہ ان کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسز کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

مسلسل گرم ہوتی ہوئی زمین، انسان اور حیات کی تمام اقسام کے لیے مشکلات اور تباہی کا سامان پیدا کر رہی ہے۔ گرمی کی لہریں نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہیں۔

اب پہلے سے زیادہ سمندری طوفان آ رہے ہیں اور ان کی شدت میں ہر آنے والے سال کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ بارشوں اور سیلابوں کی تعداد اور شدت پہلے سے بڑھتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب دنیا کے کئی خطوں میں خشک سالی اور قحط کے دورانیے طویل ہو رہے ہیں، زیر زمین پانی خشک ہوتا جا رہا ہے۔ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے سمندروں کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے جو کئی ساحلی علاقوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

گوبل وارمنگ کے نتیجے میں شدید بارشوں اور سیلابوں سے کئی ملکوں میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں۔
گوبل وارمنگ کے نتیجے میں شدید بارشوں اور سیلابوں سے کئی ملکوں میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر زمین کو گرم ہونے سے بچانے کے لیے فوری اور تیز تر اقدامات نہ کیے گئے تو اس صدی کے آخر تک یہاں زندگی گزارنا بہت دشوار ہو جائے گا۔

زمین کا درجہ حرارت کیوں بڑھ رہا ہے؟

دن کے وقت زمین سورج کی حرارت اپنے اندر جذب کرتی ہے اور رات کو اسے فضا میں خارج کر دیتی ہے۔ زمین کے گرد ایک کرہ ہوائی ہے جس میں مختلف گیسیں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک گیس کاربن ڈائی اکسائیڈ ہے۔ فضا میں اس کی مقدار بہت قلیل ہے۔ یہ گیس زمین کی حرارت کو واپس کائنات میں جانے سے روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جیسے جیسے فضا میں کاربن گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے، اسی رفتار سے زمین کا درجہ حرارت بھی بڑھنا شروع ہو جاتا ہے، کیونکہ زمین سے خارج ہونے والی حرارت کی واپسی کا راستہ رکنے لگتا ہے۔ کاربن گیسوں کے اخراج کی زیادہ تر ذمہ داری ہم انسانوں پر عائد ہوتی ہے۔

کرہ ارض کا درجہ حرارت کب بڑھنا شروع ہوا؟

سائنس دان زمین کے درجہ حرارت کے لیے صنعتی دور سے قبل کے زمانے کو ایک پیمانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ معدنی ایندھن کا استعمال بڑھتا گیا۔ معدنی ایندھن کاربن گیسوں کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ کارخانوں کی چمنیاں اور موٹرگاڑیوں کا دھواں مسلسل فضا میں کاربن گیسیں شامل کر رہی ہیں۔

کارخانے اور موٹرگاڑیاں کاربن گیسوں کے اخراج کا ایک ہم ذریعہ ہیں۔
کارخانے اور موٹرگاڑیاں کاربن گیسوں کے اخراج کا ایک ہم ذریعہ ہیں۔

اس کے علاوہ بڑےجانوروں کا فضلہ بھی کاربن گیسوں کے اخراج کا ایک ذریعہ ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

گلوبل وارمنگ پر پیر کے روز جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم خطرے کی سرخ لکیر پر پہنچ چکے ہیں۔

تین ہزار سے زیادہ صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ موسمیات سے متعلق دنیا کے 234 چوٹی کے سائنس دانوں نے مرتب کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آب و ہوا سے متعلق 2015 کی عالمی کانفرنس میں دنیا کے ملکوں کے اس پر اتفاق کیا تھا کہ وہ عالمی درجہ حرارت کو 19 ویں صدی کے آخر کے درجہ حرارت سے، (جب صنعتی دور کی شروعات ہوئی تھی)، ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ (2 اعشاریہ 7 ڈگری فارن ہائیٹ) سے اوپر نہیں جانے دیں گے اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے یہاں کاربن گیسوں کا اخراج محدود کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

لیکن اس وقت دنیا کے درجہ حرارت میں صنعتی دور سے قبل کے مقابلے میں ایک اعشایہ ایک درجہ سینٹی گریڈ (2 ڈگری فارن ہائیٹ) تک اضافہ ہو چکا ہے۔

خشک موسم نے کئی علاقوں میں جھیلوں کو خشک کر دیا ہے۔
خشک موسم نے کئی علاقوں میں جھیلوں کو خشک کر دیا ہے۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورت حال برقرار رہتی ہے تو اگلے عشرے میں ہم ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ کی حد عبور کر لیں گے۔

پیرس معاہدے کی حد عبور کرنے سے کیا ہو گا؟

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شدید گرمی کی لہر جو صنعتی دور سے پہلے 50 سال میں ایک بار آتی تھی، اب ہر دس سال کے بعد آ رہی ہے اور سرخ لکیر عبور کرنے کے بعد ہمیں ہر سات سال میں اس کا دو بار سامنا کرنا پڑے گا۔ جس سے خشک سالی، قحط اور جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بڑھ جائیں گے۔ سمندری طوفانوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہو جائے گا۔

رپورٹ کے مصنفین میں شامل رٹز یونیورسٹی کے سائنس دان بوب کاپ کا کہنا ہے کہ گلیشیئر پگھلنے کی رفتار بڑھنے سے اس صدی کے نصف تک سمندر میں پانی کی سطح میں 6 سے 12 انچ تک اضافہ ہو جائے گا، جس سے کئی ساحلی علاقے زیر آب آجائیں گے یا ان کے ڈوبنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

سائںس دانوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے سنمدر کے پانی میں جذب آکسیجن کی مقدار کم ہو جائے گی جس کا منفی اثر آبی حیات پر ہو گا۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جسے پلٹنے میں صدیاں بلکہ کئی ہزار سال لگ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت سے متعلق مستقبل کے پانچ منظر نامے پیش کیے گئے ہیں۔ پہلا ایک ایسا مستقبل جو بہت بڑے پیمانے پر کاربن گیسوں کے اخراج اور آلودگی میں کمی کا نتیجہ ہو گا۔ دوسرا وہ جس میں کاربن گیسوں اور آلودگی کو گھٹانے پر کافی توجہ دی جائے گی۔ تیسرا وہ جو کاربن گیسوں اور آلودگی کو روکنے کی درمیانی سطح کی کوششوں کا ثمر ہو گا۔ چوتھا منظر نامہ ان کوششوں پر مبنی ہے جو اس وقت جاری ہیں اور پانچواں منظر نامہ ایک ایسے مستقبل کے بارے میں ہے جس میں کاربن گیسوں کے اخراج اور آلودگی کو گھٹانے پر کوئی توجہ نہیں دی جائے گی۔

ہوا کی آلودگی نے نیویارک کا مجمسہ آزادی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
ہوا کی آلودگی نے نیویارک کا مجمسہ آزادی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

امریکہ کے پیسیفک نارتھ ویسٹ نیشنل لیب کے سائنس دان اور رپورٹ کے شریک مصنف کلاؤڈیا ٹبالڈی کا کہنا ہے کہ اس وقت گلوبل وارمنگ روکنے کی ہماری کوششیں انتہائی ناکافی ہیں اور وہ انسانیت کے لیے خطرے کی سرخ لکیر کی مانند ہیں۔

آب و ہوا کی تبدیلی پر آئندہ سکاٹ لینڈ میں ہونے والی کانفرنس کے صدر الوک شرما نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ کاربن گیسوں کا اخراج روکنے کے لیے بہت زیادہ کوششیں کریں تاکہ وہ یہ کہہ سکیں کہ ہم نے دنیا کے درجہ حرارت کو صنعتی دور سے قبل کے درجہ حرارت سے ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ کے اندر رکھا ہوا ہے۔ اور اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو وہ ہمارے لیے تکلیف دہ ہو گا، اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنی کوششیں ترک نہ کریں۔

دنیا کے ایک سو سے زیادہ ملکوں نے اس صدی کے نصف تک انسان کی پیدا کردہ کاربن گیسوں کے اخراج کو صفر پر لانے کا ہدف پورا کرنے کے غیر رسمی وعدے کیے ہیں، جو سکاٹ لینڈ میں ہونے والی کانفرنس کا ایک اہم حصہ ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے بہت زیادہ نقصان دہ اثرات کو اپنے ٹھوس اقدامات کے ذریعے محدود کرنا اب بھی ممکن ہے۔

خشک موسم اور جنگلات کی آگ

حالیہ عرصے میں خشک موسم کے باعث جنگلات کی آگ کے بڑے بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جب کہ امریکہ کے کئی علاقوں اور یونان میں اب تک آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ خشک موسم اور تیز ہوائیں آگ کی شدت میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔

جنگلات کی آگ نے کیلی فورنیا کے ایک گاؤں گرین ول کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔
جنگلات کی آگ نے کیلی فورنیا کے ایک گاؤں گرین ول کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔

ریاست کیلی فورنیا میں عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز سے اب تک جنگلات میں آگ لگنے کے 6 ہزار سے زیادہ واقعات ہو چکے ہیں جس سے 1260 مربع میل کے علاقے میں سب کچھ جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔ یہ تعداد پچھلے سال آتشزدگی کے اسی عرصے کے واقعات کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

یونان میں حکام نے بتایا ہے کہ درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے جس سے درخت اور جنگلی جھاڑیاں تیزی سے آگ پکڑ رہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں سے تقریباً 28 سو افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔

اس سے قبل حال ہی میں ترکی کے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھنے سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہو چکا ہے۔

دوسری جانب حالیہ عرصے میں دنیا کے کئی حصوں میں شدید بارشوں اور سیلابوں سے بڑے پیمانے پرجانی اورمالی نقصانات ہو چکے ہیں، جن میں جرمنی، جاپان اور چین کے سیلاب تازہ ترین ہیں۔

(اس مضمون کے لیے کچھ معلومات ایسوسی ایٹڈپریس اور رائٹرز سے لی گئی ہیں)

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG