رسائی کے لنکس

logo-print

شام کی صورتِ حال انسانی المیے میں تبدیل: اقوامِ متحدہ


اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ شام میں جاری بحران تباہ کن انسانی المیے کی صورت اختیار کرگیا ہے

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ شام میں جاری بحران تباہ کن انسانی المیے کی صورت اختیار کرگیا ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے عالمی ادارہ شام میں اپنی امدادی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کی ترجمان الزبتھ بائیرز نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ ان کا ادارہ رواں ماہ 17 لاکھ شامی مہاجرین تک خوراک پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے جب کہ ان کے پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی تعداد مارچ میں 20 لاکھ اور اپریل میں 25 لاکھ تک جاپہنچے گی۔

'فوڈ پروگرام' اس وقت اندازاً 15 لاکھ شامی مہاجرین اور پناہ گزینوں کی خوراک کی ضرورت پوری کررہا ہے۔

دریں اثنا شامی بحران کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری ہیں اور اسلامی ممالک کے رہنما شام کی حکومت اور حزبِ اختلاف کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے امکانات پر غور کےلیے مصر کےد ارالحکومت قاہرہ میں جمع ہورہے ہیں۔

اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم 'او آئی سی' کے بدھ سے شروع ہونے والے دو روزہ اجلاس کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا جائے گا اس کے مجوزہ متن کی ایک نقل برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' نے حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

'رائٹرز' کے مطابق اعلامیہ میں شام میں گزشتہ دو برسوں سے جاری سیاسی کشیدگی اور خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے شامی حزبِ اختلاف کے رہنمائوں اور شامی حکومت کے ایسے عناصر کے درمیان مذاکرات پر زور دیا گیا ہے جو حزبِ اختلاف کے خلاف جارحانہ کاروائیوں میں ملوث نہیں۔

'رائٹرز' نے دعویٰ کیا ہے کہ اعلامیہ میں شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو شام میں جاری تشدد کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ شامی حکومت نے حزبِ اختلاف کے جلاوطن رہنما معاذ الخطیب کی جانب سے شامی صدر بشار الاسد کے نائب کے ساتھ مل کر مذاکرات کے ذریعے بحران کا حل تلاش کرنے کی پیشکش کا تاحال جواب نہیں دیا ہے۔

معاذ الخطیب نے گزشتہ روز مختلف عرب ٹیلی ویژن چینلز کو اپنے انٹرویوز میں کہا تھا کہ وہ شام کے نائب صدر فاروق الشرح کو پیشکش کر رہے ہیں کہ وہ صدر اسد کی اقتدار سے پرامن رخصتی کو ممکن بنانے کے لیے ان کے ساتھ مذاکرات کریں۔
XS
SM
MD
LG