رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کا یرموک سے پناہ گزینوں کے محفوظ انخلا کا مطالبہ


اقوام متحدہ میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور نے لڑائی میں شریک فریقین پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کو چھوڑ دیں کیونکہ انھوں نے شام کی خانہ جنگی میں ملوث ہونے سے احتراز کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر داعش اور النصرہ فرنٹ کے جنگجووں کے قبضے کی مذمت کرتے ہوئے یہاں امدادی کارکنوں کو رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے شدت پسندوں نے یرموک کے اس مہاجر کیمپ کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہاں اب بھی تقریباً 18 ہزار افراد مقیم ہیں۔

فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے "یو این آر ڈبلیو اے" کے سربراہ پیئر کرانبوہل نے تازہ صورتحال پر اردن سے وڈیو لنک کے ذریعے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو علیحدہ علیحدہ بریفنگ دی۔

بعد ازاں انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یرموک کیمپ میں صورتحال پہلے ہی مخدوش جو مزید بگڑتی جارہی ہے اور وہاں سے کم تعداد میں ہی شہری نکلنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

"ہمارا خیال ہے صرف زیادہ سے زیادہ چند سو افراد ہی شاید نکل سکے ہیں۔ گزشتہ روز یرموک کے مضافات میں پہنچنے والے ایک سو سے بھی کم لوگوں کو ہم نے امداد فراہم کی۔"

ان کا کہنا تھا کہ 2011ء میں لڑائی شروع ہونے سے پہلے یرموک میں ایک لاکھ 70 ہزار فلسطینی پناہ گزین مقیم تھے جہاں اب صرف دس فیصد ہی رہ گئے ہیں۔

شام کی فوجوں نے یرموک کا تقریباً دو سال تک محاصرہ کیے رکھا اور وہاں بہت ہی کم امدادی سامان پہنچایا جاتا رہا۔ گزشتہ بدھ کو ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ شدت پسند گروپ داعش اور اس سے منسلک مسلح گروہوں نے کیمپ پر دھاوا بولا اور اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

کرانبوہل نے صورتحال کو "دگر گوں" قرار دیتے ہوئے کہا کہ"ہم محتاط انداز میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ کیمپ میں رہنے والوں کی ایک قابل ذکر تعداد ان علاقوں میں ہے جو مسلح گروپوں کے قبضے میں ہیں۔"

اقوام متحدہ میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور نے لڑائی میں شریک فریقین پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کو چھوڑ دیں کیونکہ انھوں نے شام کی خانہ جنگی میں ملوث ہونے سے احتراز کیا۔

"ہم تمام فریقوں سے حکومت اور حزب مخالف سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لوگوں کو اس میں ملوث نہ کریں اور ان کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ کریں۔"

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لڑائی شروع ہونے سے قبل شام میں پانچ لاکھ 60 ہزار فلسطینی پناہ گزین مقیم تھے جن کی تعداد اب ایک لاکھ تک گر چکی ہے۔

یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اب بھی یہاں موجود 95 فیصد فلسطینیوں کا دارومدار ان کے ادارے کی امداد پر ہے۔

سلامتی کونسل نے یرموک سے ان شہریوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG