رسائی کے لنکس

logo-print

مغربی کنارے میں یہودیوں کا مقدس مقام نذر آتش


اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعہ کو ایک ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے جس میں مشرق وسطیٰ خصوصاً اسرائیل اور فلسطین میں کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ فلسطینی مظاہرین نے مغربی کنارے کے ایک علاقے میں واقع یہودیوں کے مقدس مقام کے بعض حصوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ جمعہ کو علی الصبح نابلوس میں لگ بھگ ایک سو مظاہرین نے "قبر یوسف" کے احاطے میں گھس کر مزار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ فلسطینی سکیورٹی فورسز نے یہاں پہنچ کر ہجوم کو منشتر کر دیا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان پیٹر لرنر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ "فوج شر پسند عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی، مزار کو بحال کرے گی اور پیروکاروں کی یہاں آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنائے گی۔"

تاحال یہ واضح نہیں کہ اس مزار کو کتنا نقصان پہنچا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اللہ کے نبی حضرت یوسف یہاں دفن ہیں۔

جمعہ کو ہزاروں کی تعداد میں اضافی اسرائیلی فوجیوں کو گلیوں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ نماز جمعہ کے بعد یہاں بڑے مظاہرے ہونے کی توقع ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعہ کو ایک ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے جس میں مشرق وسطیٰ خصوصاً اسرائیل اور فلسطین میں کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ اجلاس کونسل کے رکن ملک اردن کی درخواست پر بلایا گیا ہے کہ سفارتکاروں کے بقول اس کے اختتام پر تشدد سے متعلق کوئی بیان سامنے آ سکتا ہے۔

یروشلم میں فلسطینیوں کی طرف سے چاقوؤں سے حملوں کے پے در پے واقعات کے باعث صورتحال خاصی کشیدہ ہو چکی ہے۔ ان واقعات میں اب تک سات اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اسرائیلی پولیس اور فوج کی طرف سے کی گئی کارروائیوں میں 31 فسلطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ان میں سے اکثر ہلاکتیں مظاہروں کے دوران رونما ہونے والے واقعات میں ہوئیں۔

XS
SM
MD
LG