رسائی کے لنکس

logo-print

سری لنکا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مشروط بین الاقوامی تحقیقات


سری لنکا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مشروط بین الاقوامی تحقیقات

اقوام متحدہ کے ایک تفتیشی پینل نے کہاہے کہ سری لنکا کی سرکاری فوج اور تامل ٹائیگرباغیوں کے درمیان 25 سال تک جاری رہنے والی لڑائی میں دونوں فریقوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی قابل اعتماد شکایات موجود ہیں۔

پیر کے روز جاری ہونےوالی رپورٹ ، جس کا طویل عرصے سے انتظار کیا جارہاتھا، لڑائی کے آخری مرحلے کے بارے میں ہے جس کا اختتام مئی 2009ء میں ہوا تھا۔ پینل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سری لنکا کی فوج نے ونی کے علاقے میں بڑے پیمانے پر گولہ باری کی تھی، جس سے بہت سے زیادہ تعداد میں عام شہری ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ میں تقریباً تین لاکھ 30 ہزار افراد گھیرے میں آگئے تھے لیکن تامل ٹائیگرز نے انہیں جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیاتھا اور انہیں وہ انسانی ڈھال یا یرغمال کے طورپر استعمال کرتے رہے۔

تین افراد پر مبنی اقوام متحدہ کے پینل کے سربراہ انڈونیشیا کے سابق اٹارنی جنرل مارزوکی داروسمان نے 195 صفحا ت پر مشتمل اس دستاویز میں یہ تجویز دی ہے کہ سری لنکا کی حکومت الزامات کی چھان بین کے لیے حقیقی تفتیش کرائے۔

اقوام متحدہ کے ایک نائب ترجمان فرحان الحق نے کہاہے کہ سیکرٹری جنرل بن کی مون نے کولمبو کی حکومت کو پینل کی تجاویز پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ ان کے خیال میں احتساب کی مکمل ذمہ داری سری لنکا کو سنبھالنی چاہیے۔

مسٹر بن کی مون نے کہا کہ وہ ان واقعات کی بین الاقوامی تحقیقات سری لنکا کی حکومت کے متفق ہونے پریا اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے مطالبے کی صورت میں ہی کرائیں گے۔تاہم نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم نے پیر کے روز کہا کہ سیکرٹری جنرل کو فوری طورپر بین الاقوامی تفتیش کا حکم دینا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG