رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں شہری ہلاکتوں کی روک تھام کے لیے اقدامات پر زور


نوی پلے

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے اعلیٰ عہدیدار نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کرے جہاں ان کے بقول سات ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں تین ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

عالمی ادارے کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نوی پلے نے جمعہ کے روز کہا کہ شام کی حکومت کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں میں 187 بچے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ صرف گزشتہ دس روز میں 100 افراد مارے گئے۔

پلے نے متنبہ کیا کہ شام میں جاری بے رحمانہ کارروائیاں اور ہلاکتیں ملک کو خانہ جنگی میں جھونک سکتی ہیں۔ انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کہ وہ بین الاقوامی برادری سے کس طرح کے اقدامات کرنے کی توقع رکھتی ہیں۔

شام کے صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرنے والے احتجاجیوں پر فوجی قوت بھی استعمال کی گئی۔ رواں ماہ کے اوائل میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے باغی فوجیوں کا سراغ لگانے کے لیے لگ بھگ تین ہزار افراد کو ہراست میں لیا ہے۔

XS
SM
MD
LG