رسائی کے لنکس

logo-print

دہشتگردوں کے مالی وسائل کے خلاف چارہ جوئی پر سیمینار


اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ایک تین روزہ سیمینار کا آغاز ہوا ہے جس میں دہشت گردوں کے مالی وسائل پر ہاتھ ڈالنے اور انہیں قانون کی گرفت میں لانے کے طریقوں پر بحث کی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ایک تین روزہ سیمینار کا آغاز ہوا ہے جس میں دہشت گردوں کے مالی وسائل پر ہاتھ ڈالنے اور انہیں قانون کی گرفت میں لانے کے طریقوں پر بحث کی جائے گی۔

سلامتی کونسل کی دہشت گردی کے خلاف کمیٹی کے تعاون سے منعقد کیے گئے اس تین روزہ سیمینار میں دنیا کے 25 ممالک سے پروسیکیوٹرز یعنی ایسے سرکاری وکلاء کو جمع کیا گیا ہے جو دہشت گردوں کے خلاف مقدمات لڑتے ہیں۔ پاکستان کی ترجمانی اقوام متحدہ کے لیے پاکستانی مشن سے ایک سفارت کار جبکہ بھارت کی ترجمانی مشہور فوجداری وکیل اور ممبئی حملوں میں بھارتی حکومت کے مشیر اُجوال نگم کر رہے ہیں۔

مقصد یہ ہے کہ جن ممالک کا دہشت گردی سے سب سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے، ان کے تجربات کا نچوڑ نکالا جائے تاکہ دہشت گردوں کو قانون کی گرفت میں لانے اور ان کے مالی وسائل پر ہاتھ ڈالنے کے سب سے کارگر طریقوں پر روشنی ڈالی جا سکے۔

سیمینار کا آغاز کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کمیٹی یا سی ٹی سی کے چیئرمین، ترکی کے ارتگرل اپاکان نے یاد دلایا کہ دہشت گردی کے مقابلے کا مطلب یہ نہیں کہ انسانی حقوق کو پس پشت ڈال دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘‘یہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اٹھایا گیا کوئی بھی قدم عالمی قوانین کے مطابق ہو۔ خصوصاً انسانی حقوق کے قوانین اور پناہ گزینوں کے لیے بنائے گئے عالمی قوانین کے مطابق۔’’

سی ٹی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیک سمتھ کے مطابق دہشت گردوں کو قانون کے تقاضوں کے اندر رہتے ہوئے کیفر کردار تک پہنچانا ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سیمینار کے نتائج پر مبنی ایک رپورٹ تیار کی جائے گی اور موثر طریقوں کا تعین کر کے انہیں باقی ممالک کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا تاکہ موثر عالمی تعاون کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ سیمینار جمعے تک جاری رہے گا۔

XS
SM
MD
LG