رسائی کے لنکس

logo-print

رواں ماہ مشرقی یوکرین میں لڑائی سب سے ہلاکت خیز رہی: رپورٹ


یوکرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد چھ لاکھ 59 ہزار سے نو لاکھ 21 ہزار کے درمیان ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں جاری حالیہ لڑائی پانچ ستمبر کو کیئف اور روس کے حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز لڑائی ہے۔

ادارے کے مطابق 13 سے 21 جنوری کے دوران یہاں 262 افراد ہلاک ہوئے جس کا مطلب ہے کہ اوسطً ایک روز میں 29 افراد مارے گئے۔

عالمی ادارے کے دفتر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ سال اپریل میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد موت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔

مزید برآں بتایا گیا کہ اپریل کے وسط سے جنوری 2015 کے دوران لگ بھگ 11 ہزار افراد زخمی بھی ہوچکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ منسک میں پانچ ستمبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدہ غیر موثر ہو چکا ہے اور جنوری کے وسط سے شروع ہونے والی شدید لڑائی یہاں موجود شہری آبادی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ حکومت اور باغی ڈونٹسک کے خطے خاص طور پر ہوائی اڈے کے قریب مبینہ طور پر ٹینکوں کا استعمال کر رہے ہیں۔

ادارے کے ترجمان روپرٹ کولول کہتے ہیں کہ لوہانسک کے خطے کے متعدد علاقوں میں بھی بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے کو حال ہی میں یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاع کی کونسل کی طرف سے متحارب گروپوں کے زیر تسلط علاقوں سے لوگوں کی آمدورفت کو محدود کیے جانے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی تشویش ہے۔

"ایسی پابندیوں کا ممکنہ طور پر عمر رسیدہ افراد، ماؤں اور بچوں اور معذور افراد پر بہت مضر اثر مرتب ہو سکتا ہے۔"

انھوں نے یوکرین کے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال میں تبدیلی کے لیے فوری اقدامات کریں۔

یوکرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد چھ لاکھ 59 ہزار سے نو لاکھ 21 ہزار کے درمیان ہے۔ روسی عہدیداروں کے مطابق لگ بھگ پانچ لاکھ یوکرینی باشندے ملک چھوڑ کر بھی جا چکے ہیں اور ان کے بقول دو لاکھ 45 ہزار افراد نے پناہ کے لیے درخواستیں بھی دے رکھی ہیں۔

XS
SM
MD
LG