رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی سوڈان: بچوں کی غذائی قلت پر اقوام متحدہ کی تشویش


یونیسف نے کہا ہے کہ اگر رواں سال کے آخر تک علاج کی سہولتوں میں اضافہ نا کیا گیا تو مزید اڑھائی لاکھ بچوں کو انتہائی غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر مزید اقدامات نا کیے گئے تو جنوبی سوڈان میں ’’قحط سالی‘‘ کے باعث پچاس ہزار بچے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔

عالمی تنظیم کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسف‘ نے کہا ہے کہ اگر رواں سال کے آخر تک علاج کی سہولتوں میں اضافہ نا کیا گیا تو مزید اڑھائی لاکھ بچوں کو انتہائی غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2011 میں آزادی کے حصول کے بعد سے اس افریقی ملک کو غذائی قلت کا سامنا ہے جب کہ ملک میں جاری حالیہ لڑائی کے باعث یہ مسئلہ مزید گمبھیر ہو گیا ہے۔

صدر سلوا کیر اور ملک کے سابق نائب صدر رئیک ماچار کے حامیوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں اور یہ تنازع اب بھی جاری ہے۔

یونیسف کے مطابق جنوبی سوڈان میں 37 لاکھ افراد کو خوراک کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ادارے کے مطابق اب تک اُسے 46 لاکھ ڈالر حاصل ہو سکے لیکن غذائی قلت کے شکار بچوں تک پہنچنے کے لیے تین کروڑ اسی لاکھ ڈالر کی ضرورت ہے۔

جنوبی سوڈان میں حالیہ تشدد کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب گزشتہ سال کے وسط میں صدر سلوا کیر نے اپنی حکومت کا تختہ اُلٹنے کا الزام نائب صدر رئیک ماچار پر عائد کیا تھا۔

جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود ملک میں لڑائی جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق لڑائی کے باعث دس لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے جب کہ دو لاکھ افراد پڑوسی ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG