رسائی کے لنکس

logo-print

روسی طیاروں کا پہلا دستہ شام سے وطن واپس روانہ


وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما نے پیر کو روسی فوجوں کے انخلا کے اعلان کے متعلق صدر پوتن سے ٹیلی فون پر بات کی اور اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ شام کے سیاسی مذاکرات کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔

روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ منگل کو اس کے طیاروں کا ایک دستہ شام سے روس واپس روانہ ہو گئی ہے۔

ساڑھے پانچ ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے بعد پیر کو صدر ولادیمر پوتن نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ اہداف مکمل ہونے پر وہ اپنی بیشتر افواج شام سے واپس بلا رہے ہیں اور منگل سے فوجوں کا انخلا شروع ہو جائے گا۔

یہ طیارے شام کے مغربی لاذقیہ صوبے میں واقع حمائمیم فضائی اڈے سے روس واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو روس کی طرف سے شام سے اپنی فوجوں کے انخلا کے فیصلے کو سراہا تھا۔

سلامتی کونسل کے موجودہ صدر انگولا کے اقوام متحدہ میں سفیر اسمٰعیل گیسپر مارٹنز نے کہا کہ روس کے اس اقدام اور جنیوا میں پیر کو امن مذاکرات کے آغاز کا مطلب ہے کہ اس کا ’’زیادہ مثبت نتیجہ‘‘ برآمد ہو سکتا ہے۔

’’جب ہم فوجوں کے انخلا کو دیکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ جنگ ایک مختلف سمت میں جا رہی ہے، تو یہ اچھی بات ہے۔‘‘

دمشق میں شامی صدر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ صدر اسد روس کے اس اقدام سے اتفاق کرتے ہیں مگر کہا کہ روس نے وعدہ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ کا دستہ جو ستمبر کے اواخر میں شام پہنچا تھا مکمل طور پر ملک سے نہیں جائے گا اور کچھ موجودگی برقرار رکھے گا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما نے پیر کو روسی فوجوں کے انخلا کے اعلان کے متعلق صدر پوتن سے ٹیلی فون پر بات کی اور اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ شام کے سیاسی مذاکرات کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب تک ’’ایسا کوئی اشارہ نہیں‘‘ ملا کہ روسی فوجیں شام سے انخلا کی تیاری کر رہی ہیں۔

عہدیدار نے کہا کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں شام میں تعینات روسی فوجوں میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا مگر ان کی موجودہ عملداری کو برقرار رکھنے کے لیے رسد کی فراہمی جاری ہے۔

روسی حکومت 'کریملن' کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روس شام میں اپنی کچھ موجودگی برقرار رکھے گا تاکہ وہ ان پروازوں کو جاری رکھ سکے جو "شام میں کشیدگی روکنے سے متعلق معاہدے پر فریقین کی جانب سے عمل درآمد کی نگرانی کے لیے اڑائی جا رہی ہیں۔"

روس کے اقوام متحدہ میں سفیر وٹالی چرکن نے پیر کو کہا کہ روس شام سے اپنی فوجوں کے انخلا کا اقدام اس لیے کر رہا ہے کیونکہ ’’ہم اب سیاسی طرز پر چل رہے ہیں، جنگ کے خاتمے کی طرز پر چل رہے ہیں۔‘‘

’’ہمیں اپنی سفارتکاری میں پیش قدمی کا حکم ملا ہے تاکہ ہم شام میں سیاسی حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کر سکیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’ہماری فوسز نے بہت مؤثر طریقے سے اپنا کام کیا ہے۔ وہاں ہماری فوجی موجودگی جاری رہے گی۔ اس کا مقصد وہاں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانا ہو گا۔‘‘

شامی حزب اختلاف کے ترجمان سلیم المصلات نے پوتن کے اعلان کا محتاط طور پر خیر مقدم کیا۔

’’ہمیں اس فیصلے کی نوعیت کے بارے میں یقین کر لینا ہو گا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ اگر تو یہ فیصلہ فوجوں کے انخلا کے متعلق ہے تو یہ مثبت ہے۔ ہم نے دیکھنا ہے کہ یہ زمینی حقیقت کے طور پریہ کیسے ظاہر ہوگا اور کیا یہ فیصلہ فوج کے انخلا کے متعلق ہے یا شام میں روسی طیاروں میں کمی لانے کے متعلق ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG