رسائی کے لنکس

logo-print

واضح نہیں آیا 31 مارچ تک ایران سے سمجھوتا طے ہوگا: کیری


’ہم نے کچھ پیش رفت ضرور کی ہے۔ لیکن ابھی کافی دوریاں ہیں، اہم جھول ہیں، اور اہم فیصلے لینا باقی ہیں جس کے ہم خواہاں ہیں کہ ایران سے ہوں، تاکہ ہم آگے بڑھنے کے قابل ہوں‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ یہ واضح نہیں، آیا امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں 31 مارچ کی ڈیڈلائن تک ایران کے جوہری پروگرام پر کسی سمجھوتے پر پہنچ پائیں گے۔

ہفتے کو مصر کے سیاحتی قصبے، شرم الشیخ میں منعقدہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، کیری نے کہا کہ بات چیت کا مقصد ’صرف کسی سمجھوتے تک پہنچنا نہیں، بلکہ اچھے سمجھوتے تک پہنچنا ہے‘۔

اُنھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ میں آپ کو نہیں بتا سکتا آیا ہم کسی سمجھوتے پر پہنچ سکتے ہیں، یا یہ کہ ہم اُس کے قریب ہیں۔

اُن کے بقول، ’ہم نے کچھ پیش رفت ضرور کی ہے۔ لیکن ابھی کافی دوریاں ہیں، اہم جھول ہیں، اور اہم فیصلے لینا باقی ہیں جس کے ہم خواہاں ہیں کہ ایران سے ہوں، تاکہ ہم آگے بڑھنے کے قابل ہوں‘۔


کیری نے کہا کہ ایک مشکل یہ ہوسکتی ہے کہ 47 امریکی سینیٹروں کی جانب سے ایرانی رہنماؤں کو تحریر کردہ کھلا خط جس میں یہ انتباہ دیا گیا ہے کہ آئندہ کا امریکی صدر کسی بھی وقت سمجھوتے کو منسوخ کر سکتا ہے۔

چوٹی کے امریکی سفارت کار نے اس اقدام کو ’براہ راست مداخلت‘ قرار دیا، جس کی قطعی طور پر کوئی نظیر موجود نہیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ ایران کے ردِ عمل کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے، جب تک کہ وہ ایرانی قیادت کے ساتھ گفت شنید نہ کریں۔

امریکہ اور پانچ اہم عالمی طاقتیں اتوار کو سوٹزرلینڈ کے شہر لزانے میں ایران کے ساتھ بات چیت کا دوبارہ آغاز کریں گے۔

کیری نے اِسی ہفتے کہا تھا کہ کانگریس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ملکوں کے قائدین کے درمیان ہونے والے کسی سمجھوتے کو تبدیل کر سکے۔۔

اُنھوں نے ریپبلیکنز کے خط کو غیرذمہ دارانہ قرار دیا۔

امریکہ اور ’پی فائیو پلس ون‘ گروپ، جس میں برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی شامل ہیں، کسی سمجھوتے کے خاکے تک پہنچنے کے لیے وسط مارچ کی ڈیڈلائن سامنے ہے، جس کا تعلق ایران کی جانب سے یورینئیم کی افزودگی کی سطح کو گھٹانا ہوگا، جس کے عوض اُس کے خلاف تعزیرات واپس لی جائیں گی، جن کےباعث اس کی معیشت پر تباہ کُن اثرات پڑے ہیں۔

سمجھوتے کے مخالف رپبلیکن پارٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ ایران پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔


ایران دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور یہ کہ اُس کا جوہری پروگرام دراصل پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

XS
SM
MD
LG