رسائی کے لنکس

logo-print

ایران سے کاروبار کے لیے بین الاقوامی کاروباری ادارے تذبذب کا شکار


بہت سے کاروباری اداروں کو یہ خدشہ ہے کہ وہ کسی خلاف ورزی کے مرتکب ہو کر امریکہ میں اپنے کاروباری کے لائسنس ہی نہ گنوا بیٹھیں۔

ایران کے جوہری معاہدے پر عملدرآمد شروع ہونے کے تین ماہ بعد بھی بین الاقوامی بینک اور دیگر کاروباری ادارے اس ملک کے ساتھ کاروبار کرنے سے متعلق ہوشیار ہیں کیونکہ امریکی کی طرف سے ایران کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی قانون سازوں کی طرف سے سخت موقف زیر غور ہے۔

گزشتہ سال بیرون ملک بینکوں میں ایران کے ایک سو ارب ڈالر کے اثاثے بحال ہونے سے اس ملک کے ساتھ کاروباری لین دین پر عائد بہت سے پابندیاں بھی نرم ہو گئی تھیں اور ایران کے بینک دوبارہ سے عالمی بینکاری نظام سے منسلک ہو گئے تھے۔

لیکن بعض کمپنیوں کو اب بھی کہتی ہیں کہ انھیں ایران کی 451 ارب ڈالر کی معیشت سے فائدہ اٹھانے میں وقت لگے گا۔

ایران کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے تیزی سے دوڑ دھوپ کرنے والوں میں طیارہ ساز کمپنی "ایئربس" بھی شامل ہے جس نے جنوری میں تہران کے ساتھ 118 طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ کیا۔

اس معاہدے کے وقت کمپنی کے صدر فبریس بگزیئے کا کہنا تھا کہ "میں پوری ایئربس ٹیم کے لیے بہت فخر محسوس کرتا ہوں جنہوں نے فوری طور پر ان مجوزہ معاہدوں کو متحرک کیا اور اسے قابل عمل بنایا۔"

تین ماہ گزرنے کے بعد بھی ایئربس ان معاہدوں کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی ہے۔ مبصرین اور کمپنی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اب بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔

ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اور اس کے بینکاری قواعد کے تناظر میں بینکوں کی اکثریت تذبذب کا شکار ہے اور بہت سے کاروباری اداروں کو یہ خدشہ ہے کہ وہ کسی خلاف ورزی کے مرتکب ہو کر امریکہ میں اپنے کاروباری کے لائسنس ہی نہ گنوا بیٹھیں۔

رواں ماہ ہی امریکی کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ ایران کو امریکی مالی نظام تک رسائی دینے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے کہ جس کے تحت ایران اور امریکہ کے کاروباری ادارے ڈالر میں لین دین کر سکیں۔

تاحال ایران پر عائد بعض پابندیوں کے تحت ایران کے امریکی بینکوں اور سرمایہ کار اداروں کے ساتھ براہ راست لین دین کی ممانعت ہے۔

XS
SM
MD
LG