رسائی کے لنکس

logo-print

بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر پر توجہ دے، صدر ایردوان


ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں تقریر کر رہے ہیں۔ 24 ستمبر 2019

ترکی کے صدر ایردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں کشمیر کے تنازع پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہئیے۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری کی طرف سے تنازع کشمیر پر توجہ نہ دینے پر تنقید کی اور کہا کہ یہ مسئلہ گزشتہ 72 برسوں سے حل طلب ہے۔

ترکی کے صدر طیب ایردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جوہری طاقت پر یا تو دنیا بھر کے ممالک کے لئے پابندی لگا دی جانی چاہئے یا پھر تمام ممالک کو یہ حق حاصل ہونا چاہئیے کہ وہ جوہری صلاحیت حاصل کر سکیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ چند ممالک کی طرف سے جوہری صلاحیت برقرار رکھنے سے عدم مساوات پیدا ہوا ہے جس نے دنیا بھر میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے جنرل اسمبلی کے 74 ویں سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس پہلی جنگ عظیم کی 100 ویں برسی کے موقع پر ہو رہا ہے، جب میں لاکھوں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگوں کے منفی اثرات آج بھی دنیا بھر میں عدم استحکام ، بدامنی اور غربت کی صورت میں دیکھے جا رہے ہیں۔ جنگوں کے باعث شام، لیبیا، أفغانستان اور یوکرین سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ملکوں میں جنگوں اور مسائل کے باعث ترکی کو لاکھوں پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔

مسئلہ فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ دو ریاستی حل کی جانب بڑھنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اور اب یہ اس حل پر عمل کرنے کا وقت ہے۔

انہوں نے اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن کی نمائندگی کرتا ہے اور اپنے غیر انسانی اقدامات کو اسلام کے طور پر پیش کرنے والے اسلام اور پوری انسانیت کی توہین کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG