رسائی کے لنکس

logo-print

افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں بین الاقوامی برادری کے کردار پر زور


انتونیو گوئترز

یو این ایچ سی آر کے سربراہ گوئترز کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان سے رضا کارانہ طور پر وطن واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد تاریخ کی کم ترین سطح پر رہی اور صرف 13 ہزار لوگ ہی واپس گئے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" کے سربراہ انتونیو گوئترز نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغان پناہ گزینوں کو ان کے وطن میں آباد کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں بھرپور تعاون کرے۔

وہ پاکستان کے تین روزہ دورے پر تھے جس کا مقصد رمضان کے مہینے میں یہاں مقیم افغان پناہ گزینوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تھا۔

دورے کے اختتام پر بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جس طرح افغان پناہ گزینوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی میزبانی کی ہے اور اس بنا پر اس کی معیشت اور سماجی زندگی پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس کے برعکس بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس ضمن میں درکار تعاون کم رہا ہے۔

گوئترز کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان سے رضا کارانہ طور پر وطن واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد تاریخ کی کم ترین سطح پر رہی اور صرف 13 ہزار لوگ ہی واپس گئے جب کہ اس برس کے اوائل سے اس عمل میں تیزی دیکھنے میں آئی اور اب تک تقریباً 42 ہزار پناہ گزین افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

گوئترز نے بتایا کہ افغانستان میں سابقہ حکومت کی طرف سےپناہ گزینوں کو ملک میں آباد کرنے کے لیے ٹھوس اقدام نہیں کیے گئے لیکن موجودہ حکومت اس ضمن میں خاصی دلچسپی لے رہی ہے۔

"نئی افغان حکومت، نئے صدر، چیف ایگزیکٹو اور حکومتی ارکان بیرون ملک مقیم پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے پائیدار اقدام کو واضح طور پر قومی ترجیح قرار دے چکے ہیں۔ ماضی میں افغانستان نے پناہ گزینوں کی وطن میں دیرپا آبادکاری کے لیے بہت ہی کم اقدام کیے تھے۔"

پاکستانی عہدیداروں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 16 لاکھ اندراج شدہ افغان پناہ گزین مقیم ہیں جب کہ اتنی ہی تعداد میں افغان باشندے قانونی دستاویزات کے بغیر رہ رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں پاکستان کے سرحدی امور اور ریاستوں کے وزیر عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ رمضان کے بعد ان غیر اندراج شدہ پناہ گزینوں کے کوائف جمع کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگا۔

"رواں سال کے اواخر تک تمام افغان پناہ گزینوں کا اندراج مکمل کر لیا جائے گا اور سال کے آخر میں ہم دنیا کو بتائیں گے کہ یہاں افغان پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً تیس لاکھ ہے۔"

یو این ایچ سی آر کے مطابق پاکستان غیر ملکی شہریوں کو پناہ دینے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ پہلے نمبر پر ترکی ہے جہاں 16 لاکھ شامی پناہ گزین آباد ہیں۔

پاکستان میں افغان شہریوں کی آمد کا سلسلہ 1979ء میں روس کی طرف سے افغانستان میں مسلح مداخلت کے بعد سے شروع ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG