رسائی کے لنکس

logo-print

یورپ تارکین وطن کے لیے 'فوری' اقدامات کرے: اقوام متحدہ


یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک 800 تارکین وطن دوران سفر ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 600 تھی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرہ روم پار کرنے کی کوششوں کے دوران ہونے والی تارکین وطن کی اموات کو روکنے کے لیے "فوری" اقدامات کریں۔

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک 800 تارکین وطن دوران سفر ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 600 تھی۔

ایک بیان میں ادارے کے مطابق 260 افراد گزشتہ دس روز میں ہلاک ہوئے اور جن میں اکثر ڈوبے یا دم گھٹنے سے موت کا شکار ہوئے۔

یو این ایچ سی آر کے سربراہ انتونیو گوٹریس کا کہنا تھا کہ تازہ ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ انھوں نے یورپی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ امدادی کارروائیوں کو مضبوط، پناہ کے ضابطہ کار تک فوری رسائی اور خطرناک سمندری گزرگاہوں کی بجائے قانونی متبادل فراہم کریں۔

ہزاروں تارکین وطن جن میں اکثریت افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لوگوں کی ہوتی ہے، بحیرہ روم پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر لوگ غربت، لڑائی یا سیاسی تنازعات سے بچنے کے لیے یہ خطرناک راستہ اختیار کرتے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک 75 ہزار مہاجرین اور تارکین وطن یورپ پہنچے جن میں سب سے زیادہ اٹلی پہنچے۔

ادارے کے بقول ان تارکین وطن میں لگ بھگ 11 ہزار بچے ہیں اور ان میں نصف سے زائد تعداد کا تعلق اریٹریا سے ہے۔

XS
SM
MD
LG