رسائی کے لنکس

logo-print

افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں توسیع کی توقع ہے: یواین ایچ سی آر


فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے قیام کی 30 جون کو ختم ہونے والی مدت میں مزید توسیع کر دے گا۔ یہ بات یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر آفریدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

پناہ گزینوں سے متعلق عالمی ادارے کے ترجمان قیصر آفریدی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا، ‘‘رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے قیام کے مدت 30 جون 2019 کو ختم ہو رہی ہے، لیکن ان کے بقول حکومت پاکستان پناہ گزینوں کے بارے میں اپنی نئی پالیسی مرتب کرے گی۔ اس کے لیے ہم حکومت سے رابطے میں ہیں اور بات چیت ہو رہی ہے۔ امکان ہے کہ حکومت اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں مزید توسیع کر دے گی۔’’

قیصر آفریدی کا کہنا ہے کہ معمول کے مطابق ہر سال موسم سرما میں دسمبر سے افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی کا عمل روک دیا جاتا ہے جو یکم مارچ سے دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔

‘‘ اب افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی شروع ہو چکی ہے، لیکن رمضان میں واپسی کا عمل سست روی کا شکار رہا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ یو این ایچ سی آر افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں ان کی معاونت کرتا ہے اور عید کے بعد نوشہرہ اور کوئٹہ میں واقع رضاکارانہ واپسی کے مراکز کے ذریعے واپسی کا عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا۔’’

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ‘‘جو بھی افغان پناہ گزین اپنے وطن واپس جاتے ہیں، ان کی مراکز میں رجسٹریشن ختم کر دی جاتی ہے۔ جس سے ان کی پناہ گزین کی حییثت ختم ہو جاتی ہے اور انہیں رضاکارانہ واپسی کے لیے فارم پر کرنا پڑتا ہے اور جب وہ افغانستان واپس جاتے ہیں تو کابل اور قندھار میں واقع یو این ایچ سی کے مراکز میں انہیں دو سو ڈالر کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ جن افغان پناہ گزینوں کے پاس رجسٹریشن کارڈز ہیں، وہ پاکستان کے کسی بھی بینک میں اپنا اکاونٹ کھول سکتے ہیں۔ یو این ایچ سی کے ترجمان کے بقول کئی افغان پناہ گزینوں نے مختلف بینکوں میں اپنے اکاؤنٹ کھول لیے ہیں جو ایک خوش آئند اقدام ہے۔

عالمی ادارے کے ترجمان نے مزید کہا ‘‘اس وقت تقریباً 14 لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان میں مقیم ہیں جن میں سے زیادہ تر لوگ صوبہ خیبر پختونخوا میں رہائش پذیر ہیں جن کی تعداد تقریباً 8 لاکھ ہے۔ اس کے علاوہ 3 لاکھ 20 ہزار لوگ صوبہ بلوچستان میں ہیں اور تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار پنجاب میں ہیں اور 63 ہزار صوبہ سندھ میں مقیم ہیں۔ ان میں زیادہ تر کراچی میں مقیم ہیں۔’’

دوسری طرف عالمی ادارے کے ترجمان قیصر آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 2002 سے اب تک تقریباً 43 لاکھ افغان پناہ گزین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔

دوسری طرف حال ہی میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے سرحدی امور شہر یار آفریدی نے کہا تھا کہ پاکستان کی حکومت افغان پناہ گزینوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی اور حکومت ان کی باعزت وطن واپسی کے لیے سہولت فراہم کرتی رہے گی۔

پاکستان ایک طویل عرصے سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جن کی پاکستان میں آمد کا سلسلہ 1979 میں افغانستان پر روسی حملے کے ساتھ شروع ہوا تھا اور رواں سال پناہ گزینوں کی پاکستان میں سکونت کے 40 سال مکمل ہو جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG