رسائی کے لنکس

logo-print

اقوام متحدہ کی سوا سات کروڑ افراد کی مدد کے لیے چار ارب ڈالر کی اپیل


بیروت میں شام کے پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں ایک بچی کھانے پینے کی چیزیں ملنے کا انتظار کر رہی ہے۔ ستمبر 2018

اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے، یونیسیف نے، 59 ملکوں میں جنگوں، قدرتی آفات اور دوسری ہنگامی صورت حال سے متاثرہ 41 ملین بچوں سمیت 73 ملین لوگوں کی زندگی بچانے میں مدد کے لئے 3 ارب 90 کروڑ ڈالر کی اپنی اب تک کی سب سے بڑی اپیل کی ہے۔

اس سال بچوں کے حقوق کے کنونشن کی 30 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ 2019 تنازعوں میں اضافے کا بھی ایک سال ہے جس میں اس سے کہیں زیادہ ملک حالت جنگ میں ہیں، جتنے گزشتہ 30 برسوں میں تھے۔

تنازعوں یا سانحوں سے سب سے زیادہ متاثرہ افراد میں 3 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ وہ خوفناک پیمانے کے تشدد، محرومی یا ٹراما میں مبتلا ہیں اور انہیں تحفظ اور زندگی بچانے کے سلسلے میں بہت کم معاونت دستیاب ہے۔

ہنگامی کارروائیوں سے متعلق یونیسیف کے ڈائریکٹر مینوئل فانٹین کا کہنا ہے کہ اس سال امداد کی 88 فیصد اپیلیں جنگوں میں گھرے علاقوں میں انسانی ہمددردی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سب بڑی امدادی کارروائی شام کے پناہ گزینوں کی مدد کی ہے جو دنیا بھر میں نقل مکانی کا سب سے بڑا بحرا ن ہے۔ ان پناہ گزینوں کی میزبانی شام کے پانچ پڑوسی ملکوں کی کمیونیٹز کر رہی ہیں۔

دوسری سب سے بڑی اپیل یمن کے لیے کی جا رہی ہے جہاں گزشتہ سال بدقسمتی سے ایسے حالات پیش آئے جو بچوں کے لیے پہلے سے ہی انتہائی خوفناک تھے اور جو ممکن ہے مزید بد تر شکل اختیار کر لیں۔ یمن میں اس وقت ہر دس میں سے آٹھ بچوں کو، جن کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ ہے، مدد کی اشد ضرورت ہے۔

اس سے قبل یونیسیف کی سب سے بڑی امدادی کارروائیاں روایتی طور پر افریقہ میں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن اس سال ادارے کی سب سے بڑی کارروائیوں میں شام اور جنوبی سوڈان کے بعد تیسرا نمبر ڈیمو کریٹک ری پبلک آف کانگو کا ہے۔

مینوئل فانٹین کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے افریقہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں فنڈنگ میں سب سے زیادی کمی ہے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افریقی ملکوں کو اتنی توجہ نہیں مل رہی جتنی انہیں درکار ہے اور اس کے انسانی ہمددردی کی کارروائیوں پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کیمرون جیسے ملک میں، جو ان ملکوں میں شامل ہے جن کے لیے ہمیں تشویش ہے، خاص طور پر اس وقت شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقے میں، ہمارا ہدف یہ تھا کہ 61000 بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائیں لیکن وسائل کے فقدان کے باعث ہم صرف 2000 سے کچھ ہی زیادہ بچوں کو یہ ٹیکے لگا سکے۔ اس لئے ظاہر ہے ہمیں جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے یہ اس سے کہیں کم ہے۔

فانٹین کا کہنا ہے کہ یونیسیف کو سینٹرل افریقن ری پبلک میں صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے لیے اپنی خدمات نمایاں طور پر کم کرنا پڑیں کیوں کہ اسے درکار رقم کا صرف 36 فیصد وصول ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام واقعات میں فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے بچوں اور عورتوں کی زندگیوں پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG