رسائی کے لنکس

logo-print

عدم مساوات بچوں کی اموات کا سبب بن سکتی ہیں: یونیسف


یونیسف کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر فورسیتھ نے کہا کہ یہ صورتحال صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تھوڑی سرمایہ کاری سے بہتر کی جا سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومتوں اور ان کے شراکت داروں نے ملینیئم ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے کوششیں تیز نہ کیں تو اب سے لے کر 2030ء کے درمیان پانچ سال سے کم عمر کے سات کروڑ بچے زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں۔

یونیسف نے منگل کو دنیا میں بچوں کی صورتحال سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی جس میں حکومتوں، عطیات دینے والوں اور غیرسرکاری تنظیموں پر زور دیا کہ وہ سب سے زیادہ غیر مراعات یافتہ بچوں پر توجہ دیں اور تمام نوجوانوں کے لیے روشن مستقبل کا بہتر موقع فراہم کرتے ہوئے اس فرق کو کم کریں۔

یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینتھونی لیک نے رپورٹ میں کہا کہ "بڑے پیمانے پر عدم مساوات اور خطرات، حقوق کی خلاف ورزی سے زیادہ بچوں کے انفرادی مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ "نسلوں میں اس طرح کا مسلسل نقصان اور عدم مساوات معاشروں کے استحکام یہاں تک کہ قوموں کی سلامتی کو بھی متاثر کرتا ہے۔"

یونیسف کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر جسٹن فورسیتھ کہتے ہیں کہ تارکین وطن کے بحران سے یورپ کا متاثر ہونا اس بات کی یہ مثال ہے کہ کس طرح عدم مساوات عالمی عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے۔

"خراب طرز حکمرانی، تنازع اور ساتھ ہی عدم مساوات عدم استحکام کو بڑھاوا دے رہے ہیں جو کہ لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل و حرکت کو ہوا دے رہا ہے۔" ان کا اشارہ شمالی افریقہ سے لوگوں کی بڑے تعداد کی نقل مکانی کی طرف تھا۔

فورسیتھ نے کہا کہ یہ صورتحال صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تھوڑی سرمایہ کاری سے بہتر کی جا سکتی ہے۔ " ہم 74 ملکوں میں صرف دو فیصد (تعلیم و صحت پر) اخراجات کے اضافے سے پانچ سال سے کم عمر 14 کروڑ ستر لاکھ بچوں کو مرنے سے بچا سکتے ہیں۔"

یونیسف نے ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ 2030ء تک کے لیے عہد کردہ پائیدار ترقی کے اہداف کے ضمن میں قومی منصوبے تیار کریں۔

XS
SM
MD
LG