رسائی کے لنکس

امریکہ شامی کرد فورس کو اسلحہ فراہم کرے گا


شامی ڈیموکریٹک فورسز کا ایک جنگجو (فائل فوٹو)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگان کو شامی ڈیموکریٹک فورسز میں شامل کرد فورسز کو سازو سامان فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے اور یہ اقدام نیٹو اتحادی ترکی اور امریکہ کے درمیان تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔

پینٹاگان کی ترجمان ڈانا ڈبلیو وائٹ نے منگل کو کہا کہ ایس ڈی ایف کا نصف سے زیادہ حصہ کرد جنگجوؤں پر مشتمل ہے اور شام کے شہر رقہ میں داعش کے خلاف "ایک واضح فتح کو یقینی بنانے کے لیے" انہیں حسب ضرورت مسلح کیا جائے گا۔

وائٹ نے کہا کہ "ایس ڈی ایف امریکہ کی اور اتحادی فورسز کی مدد کے ساتھ صرف ایک ایسی فورس ہے جو مستقبل قریب میں کامیابی کے ساتھ رقہ کا کنٹرول حاصل کر سکتی ہے۔"

انقرہ، واشنگٹن اور داعش کے خلاف برسرپیکار شامی کرد فورسز کے اتحاد کی مخالفت کرتا ہے۔ ترکی کا موقف ہے کہ ایس ڈی ایف میں شامل شامی کرد ملیشیا جو 'وائی پی جی' کے نام سے معروف ہے ایک دہشت گرد گروپ ہے اور یہ کالعدم پی کے کے 'کردستان ورکرز پارٹی' کے ساتھ منسلک ہے جو ایک دہشت گرد گروپ ہے اور کئی سالوں سے ترکی کے خلاف برسرپیکار ہے۔

وائٹ نے کہا کہ پینٹاگان بہت اچھی طرح ترکی کی سکیورٹی تحفظات سے آگاہ ہے اور امریکہ "مزید سکیورٹی کے خطرات کو روکنے اور نیٹو اتحادی کی حفاظت کرنے کے " عزم پر قائم ہے۔

اس اقدام کے تحت امریکہ تمام شامی ڈیموکریٹک فورسز جن میں شامی کرد فورس ( وائی پی جی) اور شامی عرب اتحاد کی بھی شامل ہے، کی مدد کرے گا۔

پینٹاگان کو کہنا ہے کہ امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس نے منگل کو فون پر ترکی کے وزیر دفاع فکری اسحاق سے فون پر گفتگو کی جس میں دونوں راہنماؤں نے عراق اور شام میں امن و استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG