رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا پاکستانی مسافروں کو ٹائیفائیڈ سے بچنے کا انتباہ


پشاور میں ٹائیفائیڈ کے ٹیکے سے ری ایکشن کے بعد ہسپتال میں بچوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو

پاکستان میں پچھلے کئی ماہ سے ٹائیفائیڈکا مرض پھیلنے کی مسلسل اطلاعات گردش میں ہیں۔ مرض سے زیادہ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ٹائیفائیڈ سے بچنے کی ادویات بے اثر ہو گئی ہیں جس سے خبردار کرنے کے لئے امریکہ کی جانب سے بھی پاکستان کو انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔

واشنگٹن سے جاری انتباہ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مرض آہستہ آہستہ وباء کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ ٹائیفائیڈ کے بخارسے بچاؤ کے لئے استعمال ہونے والی زیادہ تر اینٹی بائیوٹکس اثر نہیں کر رہیں۔

یہ انتباہ ’یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن یعنی بیماریوں کو کنٹرول اور ان کی روک تھام کرنے والے ادارے ’سی ڈی سی ‘ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ انتباہی نوٹس میں پاکستان یا جنوبی ایشیاء کا سفر کرنے والے افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ حفظان صحت کے مطابق خوارک اور پینے کا صاف پانی استعمال کریں۔ مسافروں پر زور دیا گیاہے کہ وہ ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے ٹیکے یا ویکسی نیشن ضرور استعمال کریں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ یہ معاملہ اس قدر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے کہ اس پر باقاعدہ سیمینار منعقد کئے جا رہے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ لاپرواہی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔

محکمہ صحت کی جانب سے بھی ٹائیفائیڈ کے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے۔مرض سے بچنے کے لئے محکمے نے متاثرہ علاقوں میں ٹائیفائڈ ویکسی نیشن کیمپس قائم کردیئے ہیں جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے مرض سے بچاؤ کے لئے تشہیری مہم بھی شروع کردی گئی ہے۔

ہدایات میں کہا گیا ہے کہ دو طرح کی ٹائیفائڈ ویکسین ’اورل ‘ اور’ ٹیکے‘ دونوں کی شکل میں استعمال کی جاسکتی ہیں ۔

ادھر انگریزی اخبار رونامہ ’ڈان ‘کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی ادارے نے پاکستان کا سفر کرنے والوں کو متنبہ کیا ہے کہ انہیں ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ بخار ہونے کا خطرہ ہے ۔

سی ڈی سی نے مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ خوراک اور پانی کے حوالے سے دی گئی ہدایات پر لازماً عمل کریں جبکہ یہی ہدایات پاکستان میں رہائش پذیر افراد کےلیے بھی فائدہ مند بتائی گئی ہیں۔

ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ بخارکی ابتداءنومبر 2016 میں ہوئی تھی۔ اسے’ سلمونیلا ٹائیفائی وائرس بھی کہا جاتا ہے۔ اس بخار میں ٹائیفائڈ بخار کے لیے استعمال ہونے والی زیادہ تر اینٹی بائیوٹک ادویات بے اثر ہو جاتی ہیں۔

حیدرآباد سے شروع ہونے والی یہ وباء کراچی اور مختلف اضلاع تک پھیل چکی ہے جس میں اب تک مختلف اموات بھی رپورٹ ہوچکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG