رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ، پاکستان کی جانب سے کابل اور ننگرہار حملوں کی شدید مذمت


امریکہ، پاکستان اور افغانستان نے کابل میں زچہ و بچہ ہسپتال اور ننگرہار میں جنازے پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ افغان صدر نے ردِ عمل میں اپنی افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ دفاع کی پالیسی ترک کرکے طالبان پر حملے کریں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ طالبان نے حملوں کی ذمہ داری لینے سے انکار کرتے ہوئے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔

پومپیو نے کہا کہ طالبان اور افغان حکومت کو ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک تشدد میں مسلسل کمی نہیں آتی اور کسی تصفیہ طلب حل کی جانب نہیں بڑھا جاتا، تب تک افغانستان دہشت گردی کی زد میں رہے گا۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ افغان عوام ایک ایسے مستقبل کے حقدار ہیں جو دہشت گردی سے پاک ہو اور امن عمل افغانوں کو اس کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔

مائیک پومپیو نے اپنے بیان میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے کابل کے ایک مصروف ترین ہسپتال میں جہاں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز میٹرنٹی وارڈ چلا رہے ہیں، ناقابل قبول حملہ کیا ہے۔ حملے میں زچگی والی خواتین، نومولود اور ہیلتھ ورکر ہلاک ہوئے ہیں۔

پومپیو کا کہنا تھا کہ معصوم لوگوں پر حملہ ناقابل معافی ہے۔ لیکن زچگی کے دوران خواتین اور نوزائیدہ بچوں پر حملہ ''ایک شیطانی عمل ہے''۔

بیان میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا نماز جنازہ ادا کرنے والوں پر حملہ برادریوں اور خاندانوں کو توڑنے کے مترادف ہے۔ لیکن۔ دہشت گرد کبھی اس میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

امریکی محکمہ دفاع، پینٹاگون کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل تھامس کیمپ بیل نے منگل کے روز ہونے والے حملوں پر افغان صدر اشرف غنی کے بیان پر کہا کہ معاہدے کے مطابق، امریکی فوج اپنے شراکت داروں پر ہونے والے طالبان حملوں کے جواب میں دفاعی حملے کرتی رہے گی۔

ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیر دفاع کے حالیہ بیان کے مطابق، یہ ایک مشکل راستہ ہے، لیکن سیاسی تصفیہ ہی جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

طالبان حملوں کے ردِ عمل میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اپنی افواج کو طالبان کے خلاف صرف دفاع کی پالیسی ترک کرکے دوبارہ حملہ کرنے کی پالیسی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔

منگل کی رات ٹیلی وژن پر قوم سےخطاب میں طالبان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ افغان حکومت کی جانب سے امن کے قیام کیلئےجنگ بندی کیلئے بارہا کی جانے والی اپیلوں کو طالبان نے یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا مطالبہ کمزوری نہیں ہے بلکہ امن قائم کرنے کیلئے کمٹمنٹ کا اظہار ہے۔ تاہم، انہوں نے ایک بار پھر طالبان پر زور دیا کہ وہ امن قائم کریں۔

ان کا یہ ردِعمل افغانستان میں دو مختلف حملوں میں 38 افراد کے ہلاک ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں نومود بچے، خواتین اور صوبائی کونسل کے رکن بھی شامل ہیں۔

دارالحکومت کابل میں زچہ و بچہ ہسپتال پر تین مسلح افراد نے حملہ کیا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ ننگرہار میں ایک جنازے پر خود کش حملے میں 25 افراد نشانہ بنے۔

حکام کے مطابق ملک کے مشرقی صوبے ننگر ہار میں منگل کو ہونے والے خودکش حملے میں 15 افراد ہلاک جب کہ 50 زخمی ہوئے ہیں جن میں کئی اعلیٰ سرکاری حکام بھی شامل ہیں۔
افغان افواج گزشتہ فروری سے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے بعد، صرف دفاع کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہیں۔ معاہدے میں طے ہوا تھا کہ طالبان امن قائم کرنے کیلئے تشدد میں کمی کریں گے۔ لیکن گزشتہ فروری ہی میں معاہدہ طے پانے کے بعد طالبان کے حملوں میں ڈرامائی طور پر شدت آگئی تھی۔
ادھر پاکستان نے بھی کابل میں ہسپتال پر اور پھر جنازے پر ہونے والے ''بزدلانہ دہشت گرد حملوں کی شدید ترین الفاظ مین مذمت'' کی ہے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے اس لئے بھی قابل نفرت ہیں، کیونکہ یہ رمضان کے مقدس مہینے میں ہوئے ہیں اور ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب افغانستان کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا سے نبرد آزما ہے۔

پاکستان نے ہلاک شدگان کے خاندانوں اور افغان عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور ایک پر امن اور مستحکم افغانستان کی حمایت کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG