رسائی کے لنکس

قحط سے متاثرہ صومالیہ میں ہیضہ کی وبا پھیل رہی ہے: اقوام متحدہ


عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز کے بعد ہیضہ کی بیماری سے 21 ہزار افراد متاثر ہوئے۔

اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ قحط کے شکار صومالیہ میں ہیضہ کی وبا پھیل رہی ہے اور اس ملک میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہونے کا خطرہ اب بہت ہی قریب ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز کے بعد ہیضہ کی بیماری سے21 ہزار افراد متاثر ہوئے جن میں سے 533 ہلاک ہو گئے۔

ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی بین الاقوامی فیڈریشن نے بھی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ صرف گزشتہ چند دنوں میں صومالی لینڈ کے نیم خود مختار علاقے میں ہیضہ سے28 افراد ہلاک جب کہ دیگر 170 اسپتال میں داخل ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار کے دفتر کے ترجمان جنز لیرکی کا کہنا ہے کہ ہیضہ سے ہلاک ہونے والوں کی شرح اموات 2.3 فیصد ہے، جب کہ اگر یہ شرح ایک فیصد ہو تو یہ ایک ہنگامی صورت قرار دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وسطی جیوبا اور بکول کے علاقوں میں شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 62 لاکھ افراد جو صومالیہ کی آبادی کا نصف سے بھی زیادہ ہیں، کو فوری امداد بھی کی ضرورت ہے۔ ان میں سے لگ بھگ29 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار کے دفتر کے ترجمان جنز لیرکی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان میں سے کئی زیادہ ضرورت مند افراد تک امداد پہنچ چکی ہے، تاہم اب بھی ایسے کئی افراد ہیں جن تک یہ امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "واضح طور پر اگر کسی بھی وجہ سے ہم ان لوگوں تک نا پہنچ سکے ۔۔۔ تو پھر میرے خیال میں اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیئے کہ لوگوں کی موت واقع ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچے کو بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے۔"

ہیضہ شدید اسہال کا سبب بنتا ہے۔

دوسری طرف لیرکی کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کو ایک بار پھر خسرے کے خطرے کا بھی سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ رواں سال ملک بھر سے خسرہ کے 3,800مشتبہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور اس وبا میں بظاہر اضافہ ہو رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG