رسائی کے لنکس

وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کا دورہ پاکستان متوقع تو ہے لیکن اس بارے میں تاحال تاریخوں کا تعین نہیں ہوا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں اور گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ کابل کے بعد توقع ہے کہ افغان صدر اشرف غنی بھی اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔

پاکستان میں اگرچہ سرکاری طور پر اس مجوزہ دورے کی کوئی تفصیل تو نہیں بتائی گئی البتہ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کا دورہ پاکستان متوقع تو ہے لیکن اس بارے میں تاحال تاریخوں کا تعین نہیں ہوا ہے۔

اُدھر افغانستان کے صدارتی محل کے ترجمان کے مطابق صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان سے متعلق اطلاعات کے بارے میں کہا ہے کہ اس وقت افغان صدر کا دورہ پاکستان ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ ہفتے کابل کا اپنا پہلا دورہ کیا جسے مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ پاکستانی آرمی چیف نے اپنے دورے میں افغان قیادت کے سامنے اپنے ملک کا موقف دلائل کے ساتھ پیش کیا۔

’’بہت ہی مثبت اچھے اور مثبت ماحول میں آرمی چیف کی ڈیڑھ صدر اشرف غنی سے گھنٹہ ون ٹو ون ملاقات ہوئی اور تقریباً اتنا ہی وقت وفود کی سطح پر بات ہوئی۔‘‘

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ ’’اس ملاقات کے بعد کوئی منفی بیان نہیں آیا۔۔۔ ایک مثبت ماحول پیدا ہوا ہے، اگر افغانستان کی حکومت نے پہلے نہیں سمجھا، تو وہ سمجھنے کو تیار ہیں کہ پاکستان نے افغانستان کے لیے کیا اور کیا کر سکتا ہے۔‘‘

گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے اپنے خطاب میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

اُن کا کہنا تھا ’’میں پاکستان سے کہتا ہوں کہ وہ اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ (ریاست) کی سطح پر امن، سلامتی اور علاقائی تعاون و خوش حالی کے لیے ہمارے ساتھ مذاکرات کرے۔‘‘

اس سے قبل عید الاضحٰی کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں بھی صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ افغانستان پاکستان سے با معنی سیاسی مذاکرات چاہتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کے خواہاں پشتون سیاسی رہنما اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ملکوں کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات سے اس بات کی غمازی ہوتی ہے کہ پالیسی میں بہتری آ رہی ہے۔

آفتاب شیرپاؤ کہتے ہیں کہ اس ماحول سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے اور ایسے مواقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔

رواں سال مئی میں پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی میں کمی کے لیے کابل کا دورہ کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG