رسائی کے لنکس

logo-print

اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا جائے: سپریم کورٹ


دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصلے کو بھی چیف جسٹس نے انگریزی کے بجائے اردو میں پڑھ کر سنایا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جسٹس جواد ایس خواجہ، صرف 23روز تک چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات رہنے کے بعد بدھ 9 ستمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں

پاکستانی عدالت عظمیٰ نے فوری طور پر اردو کو سرکاری زبان بنانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ یہ احکامات منگل کو سرکاری اداروں میں اردو زبان کو رائج کرنے سے متعلق دائر ایک کیس کے فیصلے کے دوران سنائے گئے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصلے کو بھی چیف جسٹس نے انگریزی کے بجائے اردو میں پڑھ کر سنایا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جسٹس جواد ایس خواجہ صرف 23 روز تک چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات رہنے کے بعد بدھ 9 ستمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں حکومت کو آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت فوری طور پر اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے احکامات جاری کئے۔ بینچ نے اس حوالے سے حکومت کو 9 نکاتی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 251 کے تحت اندرون 15 سال ملک میں انگریزی کی جگہ اردو زبان کو رائج کیا جانا تھا۔ لیکن، اب تک ایسا نہیں ہوسکا۔ آئین کا اطلاق ہم پر فرض ہے۔ لہذا، حکومت فوری طور پر اردو کو سرکاری زبان قرار دے۔

اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلانے سے متعلق درخواست ایک مقامی وکیل کوکب اقبال نے دائر کی تھی۔ فیصلے پر رائے زنی کرتے ہوئے کوکب اقبال نے اسے ’سنہری فیصلہ‘ قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG