رسائی کے لنکس

logo-print

نیویارک: اردو زبان و ثقافت کا فروغ، منظم مہم کا عزم


معروف محقق فاروق علی نے کہا کہ ’اردو زبان اور اس میں بولے جانے والے بہت سے الفاظ بہت ہی قدیم زبانوں میں ملتے ہیں۔ لہذا، اردو کو محض لشکری زبان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے کہ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے‘

نیویارک میں پہلی اردو کانفرنس میں بیشتر مقالے انگریزی میں پیش کئے گئے۔ محققین اور حکام نے، اس موقعے پر، جنوبی ایشیائی باشندوں میں اردو زبان اور ثقافت کے فروغ کے لئے منظم مہم شروع کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

نیویارک کے بروکلین بورو ہال میں ’علامہ اقبال کمیونٹی سنٹر‘ کے تعاون سے منعقدہ اس پہلی اردو کانفرنس سے خطاب میں، ریاست نیویارک کی معاون کمشنر، انفنٹے گرین نے کہا کہ حکومت نے اسکول جانے والے ہر بچے کو کم ازکم دو زبانوں کا ماہر بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

انھوں نے والدین اور بچوں پر زور دیا کہ وہ اپنی زبان کو سیکھیں، تاکہ ان کا تاریخی ورثہ محفوظ رہ سکے۔

کانفرنس سے خطاب میں، پاکستانی قونصل جنرل راجہ علی اعجاز کا کہنا تھا کہ اردو زبان صرف پاکستانیوں کی نہیں، بلکہ دنیا کے 60 کروڑ لوگوں کی زبان ہے۔

بقول اُن کے، ’صرف امریکہ میں 10 لاکھ کے قریب پاکستانی یہ زبان بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اردو کے فروغ کی کوششوں کی ہر ایک کو حمایت کرنی چاہئے، تاکہ مغربی معاشرے میں رہتے ہوئے آپ کی ثقافت بھی محفوظ رہے‘۔

کانفرنس سے خطاب میں، ’پرنسٹن یونیورسٹی‘ نیوجرسی میں اردو ہندی کی پروفیسر، فوزیہ فاروقی نے اپنے مقالے میں بتایا کہ ’اردو اور ہندی بولنے اور سمجھنے میں تقریباً ایک ہی زبانیں ہیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ، ’اس زبان کو دنیا کے ڈیڑھ ارب انسان بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لئے، اس زبان کا فروغ بہت ضروری ہے، اور کمیونٹی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے‘۔

کانفرنس میں معروف محقق فاروق علی نے اردو زبان کے تاریخی پس منظر کو نہایت دلچسپ پیرائے میں بیان کیا؛ اور کہا کہ اردو زبان اور اس میں بولے جانے والے بہت سے الفاظ بہت ہی قدیم زبانوں میں ملتے ہیں۔ لہذا، اردو کو محض لشکری زبان قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ، ’اس کی تاریخ بہت پرانی ہے‘۔

کانفرنس میں معروف پاکستانی قلمکار ممتاز حسین نے اپنا مقالہ نظم والفاظ پیش کیا ، اس موقع پر اردوشاعری کے اظہار فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا۔

XS
SM
MD
LG