رسائی کے لنکس

logo-print

کارروائیوں میں داعش کے دس ہزار جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں: امریکی حکام


روزانہ اوسطاً 14 فضائی حملوں کی وجہ سے حکومتی کی حامی فورسز کو داعش کے زیر تسلط علاقوں کو کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں قابل ذکر مدد ملی۔

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف جاری کارروائیوں میں اب تک دس ہزار سے زائد جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

انھوں نے یہ بات فرانس کے انٹر ریڈیو سے گفتگو میں کہی۔

ایک روز قبل ہی وہ اور داعش کے خلاف اتحاد میں شامل دیگر ملکوں کے حکام نے پیرس میں عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی سے ملاقات کی تھی جس میں اس شدت پسند تنظیم سے نمٹنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکہ نے اپنے اتحادیوں کی قیادت کرتے ہوئے عراق میں گزشتہ اگست جب کہ شام میں گزشتہ ستمبر سے داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ اس دوران عراق کی فوج کو امریکی اعانت اور مشاورت بھی حاصل رہی ہے۔

روزانہ اوسطاً 14 فضائی حملوں کی وجہ سے حکومتی کی حامی فورسز کو داعش کے زیر تسلط علاقوں کو کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں قابل ذکر مدد ملی۔ لیکن اس کے باوجود شدت پسندوں کی پیش قدمی اور کارروائیاں جاری ہیں اور انھوں نے گزشتہ ماہ ہی عراق کے مغربی شہر رمادی پر قبضہ کر لیا تھا۔

بلنکن نے منگل کو کہا کہ بعض نقصانات کے باوجود فضائی کارروائیوں کی مہم اور مقامی فورسز کو تربیت اور آلات کی فراہمی ایک "فاتحانہ حکمت عملی" ہے۔

تاہم العبادی کا کہنا ہے کہ حکومت کی حامی فورسز کو بین الاقوامی اتحاد سے کافی مدد نہیں مل رہی۔

داعش نے گزشتہ سال سے عراق اور شام مختلف حصوں پر قبضہ کر کے وہاں خلافت کا اعلان کیا تھا اور اس کے شدت پسند خاص طور پر دوسرے مذاہب کے لوگوں کے خلاف قتل و غارت گری کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG