رسائی کے لنکس

طالبان کی پرتشدد کارروائیوں کے پیش نظر مزید افغان باشندوں کا انخلا متوقع


امریکی فوجی 53 سالہ ایک افغان مترجم جوش حبیب کی مدد سے دیہاتیوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

بائیڈن انتظامیہ نے پیر کو فیصلہ کیا ہے کہ طالبان کے بڑھتے ہوئے تشدد کے تناظر میں خطرے کا شکار افغان شہریوں کے افغانستان سے انخلا کے پروگرام کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی خبر رساں اداروں اور امریکی امداد حاصل کرنے والی امدادی اور ترقیاتی ایجنسیوں میں کام کرنے والے افغان باشندوں اور ان کے خاندانوں کو بھی امریکہ میں ریفیوجی کا درجہ دیا جائے گا۔

امریکی حکومت اور نیٹو کی فوج کے موجودہ اور سابق ملازمین جو انخلا کے منظور کردہ پروگرام کے دائرے میں نہیں آتے تھے، انہیں بھی اب اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

تاہم اس فیصلے کے تحت ضروری اور مشکل شرط یہ ہو گی کہ انہیں سیکیورٹی سے متعلق جانچ پڑتال کے لیے کسی تیسرے ملک جانا ہو گا، جہاں 12 سے 14 ماہ لگ سکتے ہیں۔ امریکہ ان کے سفر اور تیسرے ملک میں رہائش کے اخراجات برداشت نہیں کرے گا۔

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مطلب یہ ہو گا کہ مزید کئی ہزار افغان باشندوں اور ان کے خاندانوں کو امریکہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے کا موقع مل سکے گا۔

محکمے نے اس پروگرام کے تحت اہل افراد کی تعداد نہیں بتائی۔

ایک افغان مترجم امریکیوں فوجیوں کے ساتھ ایک دور افتادہ علاقے میں بات چیت میں مصروف۔ فائل فوٹو
ایک افغان مترجم امریکیوں فوجیوں کے ساتھ ایک دور افتادہ علاقے میں بات چیت میں مصروف۔ فائل فوٹو

یو ایس ریفیوجی ایڈمشن پروگرام کے اندر ترجیح نمبر دو متعارف کرانے کا مقصد یہ ہے کہ بنیادی پروگرام کے دائرے میں جو افغان باشندے نہیں آتے اور انہیں خصوصی امیگریشن ویزہ نہیں دیا جا سکتا، مگر امریکہ کے ساتھ کسی نہ کسی تعلق کی بناء پر ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو، تو ایسے افراد اور ان کے خاندانوں کو بھی امریکہ میں ریفیوجی کا درجہ مل سکے۔

ترجیح نمبر دو کی اہلیت کے لیے ضروری ہے کہ انہیں یا تو امریکی حکومت کی کوئی ایجنسی نامزد کرے یا امریکہ میں قائم میڈیا کےکسی ادارے یا غیر سرکاری ادارے کا اعلیٰ افسر جو امریکی شہری ہو، نامزد کرے۔

خصوصی امیگریشن ویزہ حاصل کرنے والے 221 افغان باشندوں کا پہلا گروپ جمعہ کو امریکہ پہنچ گیا ہے۔ یہ ان ڈھائی ہزار افغان شہریوں کا پہلا گروپ ہے، جن کی سیکیورٹی کلیئرنس ہو گئی ہے اور وہ جلد ہی امریکہ آجائیں گے۔ ان میں سے اکثر بطور مترجم یا امریکی فوج یا سفارت کاروں کے ساتھ کام کرتے تھے۔

تقریباً چار ہزار مزید افغان شہریوں نے اپنے خاندانوں سمیت خصوصی امیگریشن ویزے کے لیے درخواست دی ہے، توقع ہے کہ ان کی سیکیورٹی کلیرنس کسی تیسرے ملک میں ہو گی۔ اندازاً 20 ہزار افغان شہریوں نے اس پروگرام میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

(خبر کا مواد اے۔پی سے لیا گیا)

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG