رسائی کے لنکس

افغانستان پر امریکہ سالانہ 113ارب ڈالر خرچ کرتا ہے: واشنگٹن پوسٹ


افغانستان پر امریکہ سالانہ 113ارب ڈالر خرچ کرتا ہے: واشنگٹن پوسٹ

فوجی اور سویلین عہدے دار اِس پر اتفاق کرتے ہیں کہ افغان مشن پر آنے والی لاگت چکرا دینے والی ہے: تجزیہ کار

اخبار’ واشنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہے کہ امریکی فوج رواں مالی سال کے دوران افغانستان میں اپنی کارروائیوں پر 113 ارب ڈالر خرچ رہی ہے اور اُس نے اگلے مالی سال کے لیے 107ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ صدر اوباما کے مشیروں کے خیال میں یہ رقم بہت زیادہ ہے، کیونکہ وفاقی بجٹ کا خسارہ بہت زیادہ ہے جس کے پیشِ نظر ملک کے اندرونی پروگراموں میں کٹوتیوں کی ضرورت پڑے گی۔

اخبار کے تجزیہ کار راجیو چندر شیکھرن کا کہنا ہے کہ دونوں فوجی اور سویلین عہدے دار اِس پر اتفاق کرتے ہیں کہ افغان مشن پر آنے والی لاگت چکرا دینے والی ہے۔

افغانستان جانے والے ہر امریکی فوجی پر سالانہ دس لاکھ ڈالر خرچ اُٹھتا ہے جو عراق میں ایسے ہی خرچ سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ ایندھن اور دوسرا سامان ِ رسد خشکی سے گھرے ہوئے ملکوں سے ٹرکوں کے ذریعے پُرپیچ راستوں سے بھیجا جارہا ہے اور اڈے مکمل طور پر نئے سرے سے بنانے پڑتے ہیں۔

افغانستان کے پاس کوئی قومی فوج نہیں، لیکن اب امریکی قیادت میں یہ فوج تشکیل دی جارہی ہے جس پر پہلے ہی 28ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور محکمہٴ دفاع نے سنہ 2012 کے لیے اِس مد میں مزید 13ارب ڈالر کا مطالبہ کر رکھا ہے ، تاکہ افغان فوجوں کی تربیت اور ہتھیاربندی جاری رکھی جائے۔

اخبار کہتا ہے کہ فوج نے افغان سکیورٹی افواج میں 73000نفوس کا اضافہ کرنے کے لیے کہا تھا، لیکن امریکی سکیورٹی کونسل نے صرف 47000کے اضافے کی منظوری دی ہے۔

اِس طرح، سکیورٹی فورسز اور افغان قومی فوج کی مجموعی تعداد 352000ہوگئی، جس پر سالانہ خرچ کا تخمینہ چھ اور آٹھ ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ یہ افغانستان کے اپنے وسائل سے کہیں زیادہ ہے، جس کا سالانہ بجٹ محض ڈیڑھ ارب ڈالر ہے، اور بقول ایک امریکی عہدے دار کے، اِس پر آنے والی لاگت کا بوجھ امریکہ کو سالہا سال برداشت کرنا پڑے گا۔

G8کے ملکوں کے سربراہ اجلاس کے خاتمے پر جاری ہونے والے اعلامیے میں انٹرنیٹ پر جو کچھ کہا گیا ہے اُس پر’ لاس انجلیس ٹائمز‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ انٹرنیٹ کا دائرہٴ کار بنانا ضروری ہے، تاکہ حقوق ِ انسانی کو فروغ دیا جائے، قانون کی حکمرانی ، رازداری، سلامتی اور ذہنی اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ ایسا دائرہٴ کار تیار کرنا جس میں میمبر ملکوں کے پالیسی اختلافات کو دور بھی کیا جائے ممکن تو ہے پھر بھی اِس میں خطرہ موجود رہے گا کہ چین جیسے ملک تنقید کو نظر انداز کریں گے یا پھر بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ بیکار ہوجائے گا۔

لہٰذا، اخبار کے خیال میں، G8کے ملکوں کو وہ تنازعے حل کرنے کے ایسے طریقے واضح کرنے چاہئیں جو مختلف ملکوں کی طرف سے ویب کمپنیوں سے ناقابلِ دفاع قانونی مطالبات کی وجہ سے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ انٹرنیٹ کے موجد کی حیثیت سے امریکہ پر یہ ذمہ داری آتی ہے کہ وہ آزادی اور کھلے پن کو فروغ دے اور انٹرنیٹ کو کسی عالمی طرز ِ عمل کا پابند نہ کرے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG