رسائی کے لنکس

logo-print

عراق میں امریکہ اور اتحادیوں کو داعش کی مزاحمت کا سامنا


داعش نے موصل کے شمال اور جنوب میں کرد فورسز کی پوزیشنز پر بھاری ہتھیاروں، خود کش بمباروں اور دیگر اسلحے کے ساتھ حملے کیے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شدت پسند گروپ داعش کی طرف سے مزید مزاحمت کا سامنا ہونے کی توقع ہے۔

رواں ہفتے ہی شمالی عراق میں داعش کے جنگجوؤں نے کرد فورسز (پیش مرگہ) کی صفوں کو توڑتے ہوئے تباہی مچائی تھی اور اس دوران ایک امریکی نیوی سیل بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

امریکی حکام بضد ہیں کہ جون 2014ء میں عراق کے مختلف حصوں پر قبضہ کرنے والے داعش کے جنگجو اب پہلے جیسے طاقتور نہیں رہے۔ لیکن دفاعی اور انٹیلی جنس ماہرین اس سے اتفاق نہ کرتے ہوئے شدت پسندوں کی طرف سے مزاحمت کا تنبیہ کر چکے ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ داعش کی طرف سے پلٹ کر وار کرنے میں آنے والی شدت مستقبل قریب میں کم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

منگل کو داعش کے حملے کا محور پیش مرگہ کی پوزیشنز تھی۔ یہ کرد فورس داعش کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہے۔

پیش مرگہ کے ایک جنگجو عثمان حسین کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس اسلحہ ختم ہوگیا تھا، جب ان (داعش) کی گاڑیاں یہاں داخل ہوئیں تو ہماری دفاع ختم ہو گیا، ہم کچھ نہیں کرسکے اور ہمیں پسپا ہونا پڑا۔"

داعش نے موصل کے شمال اور جنوب میں کرد فورسز کی پوزیشنز پر بھاری ہتھیاروں، خود کش بمباروں اور دیگر اسلحے کے ساتھ حملے کیے۔

پیش مرگہ کے جنرل حامد آفندی کے مطابق "یہ ایک بہت بڑا حملہ تھا، داعش نے یہاں دو سے تین گھنٹے تک قبضہ کیے رکھا۔"

کرد حکام کے مطابق اس لڑائی میں داعش کے 80 جنگجو مارے گئے اور ان کی 25 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

ایک مغربی سفارتکار نے نام ظاہر کیے بغیر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ داعش اس طرح کا حملہ دوبارہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

XS
SM
MD
LG