رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اتحادیوں کی جانب سے بن غازی حملے کی مذمت


امریکہ کے اتحادی اور دوست ممالک نے لیبیا کے شہر بن غازی میں مشتعل مظاہرین کی جانب سے امریکی قونصل خانے پر حملے اور اس میں لیبیا میں تعینات امریکی سفیر کی ہلاکت کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

امریکہ کے اتحادی اور دوست ممالک نے لیبیا کے شہر بن غازی میں مشتعل مظاہرین کی جانب سے امریکی قونصل خانے پر حملے اور اس میں لیبیا میں تعینات امریکی سفیر کی ہلاکت کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نےکہا ہے کہ ان کا ملک سفارتی عملے اور سفارت خانوں کے خلاف ہونے والی ہر قسم کی پرتشدد کاروائیوں کی سخت مذمت کرتا ہے۔

ترجمان نے لیبیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں موجود تمام غیر ملکی سفارتی تنصیبات اور مشنز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے آنجہانی امریکی سفیر کرسٹوفر اسٹیونز اور حملے میں ہلاک ہونے والے تین دیگر امریکی سفارتی اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے تعزیت بھی کی ہے۔

آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ باب کار نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی قونصل خانے پر حملہ ان تمام لوگوں کو خوفزدہ کرے گا جو ملکوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ سفارت کار بین الاقوامی مسائل کے پرامن حل اور تصادم اور جنگ کے امکانات کو کم کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور اسی لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دینے والے ایسے لوگوں کی ہلاکت خاص طور پر اندوہناک ہے۔

امریکی حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ بن غازی کے امریکی قونصل خانے پر کیا جانے والا حملہ مظاہرین کی اچانک اشتعال انگیز کاروائی کے بجائے ایک طے شدہ منصوبے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ مشتعل مظاہرین امریکہ میں بننے والی ایک ایسی فلم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس میں پیغمبرِ اسلام کی توہین کی گئی ہے۔ مذکورہ فلم کے خلاف مسلم دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی احتجاج جاری ہے جب کہ مصر اور یمن کے امریکی سفارت خانوں پر بھی مظاہرین نے حملے کیے ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کا ملک لیبیا کی حکومت کے ساتھ مل کر واقعے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کام کرے گا۔
XS
SM
MD
LG