رسائی کے لنکس

جزیرہ نما کوریا پر امریکی اور اتحادی لڑاکا طیاروں کی پروازیں


امریکہ کی فضائیہ کے دو بی۔ون بی بمبار جہازوں نے جنوبی کوریا اور جاپان کے لڑاکا طیاروں کے ساتھ مل کر ہفتہ کو جزیرہ نما کوریا پر پروازیں کیں۔

یو ایس پیسیفک کمانڈ کا کہنا تھا کہ یہ مشن شمالی کوریا کے تین اور 28 جولائی کو کیے گئے بین البراعظمی "اشتعال انگیز میزائل تجربات" کے "براہ راست ردعمل" میں کیا گیا۔

پیسیفک کے لیے امریکی فضائیہ کے کمانڈر جنرل ٹیرنس او شوافنسی کا کہنا تھا کہ "شمالی کوریا بدستور خطے کے استحکام کے لیے فوری خطرہ ہے۔ سفارتکاری اب بھی مقدم ہے تاہم انتہائی خراب صورتحال میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ملک اور اپنے اتحادیوں کے لیے اپنے ہر دم تیار رہنے کا عزم ظاہر کر سکیں۔"

دس گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مشترکہ مشن کا آغاز گوام میں اینڈریسن ایئرفورس بیس سے شروع ہوا جہاں سے امریکی بمبار طیاروں کے ساتھ دو جاپانی ایف۔ٹو لڑاکا طیاروں نے جاپانی حدود میں پروازیں کیں۔

امریکی بمبار طیارے پھر جزیرہ نما کوریا کی فضاوں میں پہنچے جہاں تو وہاں جنوبی کوریا کے چار لڑاکا طیارے ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ گوام فضائی اڈے پر واپس پہنچنے سے پہلے ان طیاروں نے شمالی کوریا کے اوسان ایئربیس پر سے نیچی پروازیں بھی کیں۔

دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو بیلسٹک میزائل اور جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے باز رکھنے میں ناکامی پر چین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ہفتہ کو ٹوئٹر پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین "اس مسئلے کو آسانی سے" حل کر سکتا تھا۔

XS
SM
MD
LG