رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے امریکی اعانت کا اعلان


مشیل اوباما نے اس برس ’لیٹ گرلز لرن‘ یعنی ’لڑکیوں کو پڑھنے دو‘ نامی ایک منصوبہ شروع کیا تھا جس کا مقصد دنیا بھر میں نوجوان لڑکیوں کو تعلیم مکمل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے جو کسی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ گئی ہوں۔

پاکستان میں اب بھی کئی لڑکیاں غربت، ثقافتی اقدار، تشدد، عدم تحفظ اور سکولوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث ابتدائی سالوں سے ہی تعلیم سے محروم رہتی ہیں۔

لڑکوں کی نسبت لڑکیان پرائمری اسکولوں میں کم داخلے لیتی ہیں اور ہر سطح پر تعلیم مکمل کرنے میں انھیں کئی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

انہی مشکلات کو دور کرنے کے لیے امریکہ اور پاکستان نے لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز اور صاحبزادی مریم نواز نے جمعرات کو امریکی خاتون اول مشیل اوباما سے ملاقات کی جس میں اس شراکت داری کا اعلان کیا گیا۔

مشیل اوباما نے اس برس ’لیٹ گرلز لرن‘ یعنی ’لڑکیوں کو پڑھنے دو‘ نامی ایک منصوبہ شروع کیا تھا جس کا مقصد دنیا بھر میں نوجوان لڑکیوں کو تعلیم مکمل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے جو کسی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ گئی ہوں۔

مشیل اوباما نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ’لیٹ گرلز لرن‘ منصوبے کے تحت امریکہ پاکستان کو سات کروڑ ڈالر فراہم کرے گا جس سے لگ بھگ دو لاکھ لڑکیاں فائدہ اٹھا سکیں گی۔

اس رقم سے شورش زدہ اور قدرتی آفات کے شکار علاقوں میں سکولوں کی بحالی اور بے گھر لڑکیوں کو بنیادی تعلیم کی فراہمی، تعلیمی ماحول میں بہتری، لڑکیوں کے لیے تربیت، تعلیمی وظائف اور انٹرن شپ، انگریزی زبان میں مہارت، اور روزگار کے مواقع میں اضافے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

اس موقع پر مریم نوازنے پاکستان میں تعلیم کے فروغ میں تعاون پر مشیل اوباما کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم و ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

’’میں خواتین کے حوصلے اور عزم پر یقین رکھتی ہوں کیونکہ وہ کئی محاذوں پر ایک ساتھ برسرپیکار ہوتی ہیں۔ وہ ناصرف گھر اور کام کی جگہ پر اپنے حقوق کی جنگ میں مصروف ہیں بلکہ وہ مخصوص ذہنیت اور روایتی ثقافتی اقدار اور رکاوٹوں کا بھی مقابلہ کر رہی ہیں جو ان کی پیشہ وارانہ اور ذاتی ترقی میں حائل ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نواز شریف نے اس سال جولائی میں اوسلو میں تعلیم پر ہونے والی ایک عالمی کانفرنس میں 2018ء تک ملک میں تعلیم کا بجٹ دگنا کرنے یعنی مجموعی ملکی پیداوار کا دو فیصد سے بڑھا کر چار فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG