رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی ثالثی سے آرمینیا اور آذربائیجان میں جنگ بندی کے باوجود جھڑپیں


آرمینیا اور آذربائیجان کے حکام ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ناگورنو کاراباخ کے تنازع پر آذربائیجان اور آرمینیا انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں جس پر عمل درآمد پیر سے ہو رہا ہے۔ تاہم امریکی اعلان کے باوجود دونوں ملک ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

اتوار کو امریکی محکمہ خارجہ، آرمینیا اور آذربائیجان کی حکومتوں کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد پیر کو مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے ہو گا۔

معاہدے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں بھی کہا تھا کہ وہ آذربائیجان کے صدر اور آرمینیا کے وزیرِ اعظم کو جنگ بندی معاہدے پر مبارک باد دیتے ہیں۔ ان کے بقول اس معاہدے سے بہت سی انسانی جانیں بچ جائیں گی۔

جنگ بندی معاہدہ، امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کی جمعے کو واشنگٹن ڈی سی میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتوں کے بعد عمل میں آیا تھا۔ ان ملاقاتوں میں تنازع کے حل کے لیے قائم منسک گروپ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

واضح رہے کہ روس، امریکہ اور فرانس نے، جو اس تنازع کے حوالے سے قائم'منسک' گروپ کے مشترکہ سربراہ ہیں، اس تنازع کو سیاسی طور پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

منسک گروپ کا کہنا ہے کہ گروپ کے نمائندوں اور آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ نے 29 اکتوبر کو جنیوا میں دوبارہ ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

خیال رہے کہ کئی ہفتوں سے جاری اس لڑائی کے دوران دو مرتبہ روس کے تعاون سے بھی دونوں ممالک جنگ بندی پر متفق ہو چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق امریکی ثالثی سے ہونے والے تیسرے جنگ بندی معاہدے کے باوجود دونوں ملکوں نے پیر کو ایک بار پھر ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہنا ہے کہ آرمینیا کی فوج نے ترتر شہر اور اس کے نواحی دیہات میں شیلنگ کر کے اتوار کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

دوسری جانب آرمینیا کی وزارتِ دفاع نے بھی الزام لگایا ہے کہ آذری فوج نے اگلے مورچوں پر گولہ باری کی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان 27 ستمبر کو شروع ہونے والی لڑائی کو 1990 کے بعد سب سے بڑی لڑائی قرار دیا جا رہا ہے جس میں 30 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ناگورنو کاراباخ کے مقامی حکام نے الزام لگایا ہے کہ آذری فوج نے آسکران اور مارٹنی کے علاقوں میں آبادی پر گولہ باری کی ہے۔ تاہم آذربائیجان کا دعویٰ ہے کہ اس کے مورچوں کو چھوٹے ہتھیاروں، مارٹرز اور ٹینکوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

آرمینیا کا یہ بھی الزام ہے کہ آذری فوج شہری آبادیوں کو نشانہ بناتی ہے تاہم آذربائیجان اس کی تردید کرتا رہا ہے۔

آذربائیجان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اگر آرمینیا کی فوج ناگورنو کاراباخ سے پیچھے ہٹ جائے تو وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل دآمد کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ ناگورنو کاراباخ سوویت یونین کا ایک خود مختار علاقہ تھا۔ لیکن سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آرمینیا سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں خون ریز جنگ کے بعد ناگورنو کاراباخ کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

آرمینی اکثریت والے اس علاقے نے 1988 میں آزادی کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی تھی جو چھ سال جاری رہی۔

یہ جنگ 1994 میں ختم ہوئی جس کے بعد سے بین الاقوامی برادری کی علاقے میں امن قائم کرنے کی کوششیں بارہا ناکام رہی ہیں۔

نوے کے عشرے سے جاری اس تنازع میں اب تک 30 ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ تجزیہ کار دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ لڑائی کو گزشتہ دو دہائیوں کی سب سے شدید لڑائی قرار دے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG